صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 64 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 64

صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ ۶۴ - کتاب المغازی یعنی منطقہ کتیبہ کے قلعے جو نہایت اچھی حالت میں تھے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلح کر لی تھی اور آپ نے انہیں ان کی جائیدادوں پر برقرار رکھا اور انصار نے ان کے باغوں اور اہل و عیال کو چھوا تک نہیں۔ یہی امر اس باب کی روایتوں سے واضح کرنا مقصود ہے کہ آنحضرت صلی الم نے خیبر میں صحابہ کرام پر پوری نگرانی رکھی اور ضبط و ربط کا ایک اعلیٰ نمونہ اخلاق و حسن سلوک پیش کیا گیا۔ (اس تعلق میں دیکھئے روایت ۴۲۳۴، ۴۲۳۸) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح کے لئے کوشش یہود خیبر و تیماء اور وادی القریٰ وغیرہ ہی میں محدود نہ تھی۔ بلکہ آپ نے دور و نزدیک کے قبائل یہود کو بھی صلح کے پیغام بھیجے۔ علاقہ نجران کے یہودیوں نے ادائیگی جزیہ کی شرط قبول کر کے صلح کی اور انہوں نے مذہبی آزادی سے پورا پورا فائدہ اُٹھایا۔ بنو غادیا اور عریض کے یہودیوں نے بھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح کی اور ح اور حلف نامہ تحریر ہوا۔ اسی طرح خالد بن سعید یہود سعید یہودی کی قوم سے بھی ہے اہل بنو حنینہ اور اہل مقنا کے ساتھ بھی مصالحت ہوئی۔ ہوئی۔ بلاذری نے یہ معاہدات نقل کئے ہیں۔ خوف طوالت سے یہاں اُن کے اِس جگہ نقل کرنے کی گنجائش نہیں ورنہ یہ معاہدات بہت ہی قیمتی ہیں اور ان سے آنحضرت صلی اسلام کی یہودیوں سے انتہائی نرمی کے سلوک کا پتہ چلتا ہے۔ آپؐ نے غزوہ خیبر کے بعد یہودیوں کے ساتھ جس فراخ دلی کا سلوک فرمایا وہ مستشرقین کو بھی مسلم ہے۔ کے آپؐ نے حضرت معاذ بن جبل عامل یمن کو تاکید فرمائی: أَنْ لَّا يُفْتَنَ يَهُودِى عَنْ يَهُودِيَّتِهِ کہ یہودیوں کے ساتھ سلوک میں ایسی صورت نہ اختیار کی جائے جو اُن کے لئے مذہب میں موجب ابتلاء ہو۔ بلکہ یہاں تک ثابت ہے کہ آپ کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر آپ کی زندگی میں ہی قبیلہ بنی قینقاع کے اکثر خاندان مدینہ میں واپس آگئے تھے۔ پروفیسر اسرائیل نے اس کی بھی توجیہہ کی ہے که بنو قینقاع صنعت پیشہ تھے اور کاریگر تھے۔ عربوں کو صنعت و حرفت کا تجربہ نہیں تھا۔ اس امر کو انہوں نے ان الفاظ میں لکھا ہے : مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ تَقَاضَى الْأَنْصَارُ عَنْ رُجُوعِ بَعْضِ الْيَهُودِ إِلَى يَغْرِبَ فَأَقْبَلَ عَدَدٌ مِنْهُمْ عَلَيْهَا وَعَكَفُوا يَعْمَلُوْنَ فِي أَعْمَالِهِم الْقَدِيمَةِ - " تو جہیہ ایک اختیاری امر ہے۔ مصنفین سیرت و مغازی نے یہ توجیہہ بھی کی ہے کہ آپ صحابہ کرام کو مہمات جہاد اور امور نظم ون امور نظم و نسق کے لئے محفوظ رکھنا چاہتے تھے کہ بوقتِ ا۔ (فتوح البلدان للبلاذری، صلح نجران، صفحہ ۷۳) الطبقات الكبرى لابن سعد، ذِكْرُ بِعْثَةِ رَسُولِ اللهِ ﷺ الرُّسُلَ بِكُتُبِهِ، جزء اول صفحه (۲۱۳) (فتوح البلدان للبلاذری، غزوة تبوك وأيلة وذرح ومقنا والجرباء، صفحہ ۶۷) (تاريخ اليهود فى بلاد العرب، الباب الثامن غزوة خيبر، صفحہ ۱۶۹) (فتوح البلدان للبلاذري، وفود أهل اليمن إلى النبي صلى الله علیه وسلم ، صفحہ ۷۸) (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب التاسع اجلاء اليهود عن البلاد الحجازية، صفحہ ۱۷۶)