صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 64
۶۴ صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی یعنی منطقہ کتیبہ کے قلعے جو نہایت اچھی حالت میں تھے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلح کرلی تھی اور آپ نے انہیں ان کی جائیدادوں پر بر قرار رکھا اور انصار نے ان کے باغوں اور اہل و عیال کو چھوا تک نہیں۔یہی امر اس باب کی روایتوں سے واضح کرنا مقصود ہے کہ آنحضرت صلی لی ہم نے خیبر میں صحابہ کرام پر پوری نگرانی رکھی اور ضبط وربط کا ایک اعلیٰ نمونہ اخلاق و حسن سلوک پیش کیا گیا۔(اس تعلق میں دیکھئے روایت ۴۲۳۸،۴۲۳۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح کے لئے کوشش یہود خیبر و تیاء اور وادی القریٰ وغیرہ ہی میں محدود نہ تھی۔بلکہ آپ نے دور و نزدیک کے قبائل یہود کو بھی صلح کے پیغام بھیجے۔علاقہ نجران کے یہودیوں نے ادائیگی جزیہ کی شرط قبول کر کے صلح کی اور انہوں نے مذہبی آزادی سے پورا پورا فائدہ اُٹھایا کہ بنو نادیا اور عریض کے یہودیوں نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح کی اور حلف نامہ تحریر ہوا۔اسی طرح خالد بن سعید یہودی کی قوم سے بھی اور اہل بنو حسینہ اور اہل مقنا کے ساتھ بھی مصالحت ہوئی۔بلاذری نے یہ معاہدات نقل کئے ہیں۔خوف طوالت سے یہاں اُن کے اس جگہ نقل کرنے کی گنجائش نہیں ورنہ یہ معاہدات بہت ہی قیمتی ہیں اور ان سے آنحضرت لام کی یہودیوں سے انتہائی نرمی کے سلوک کا پتہ چلتا ہے۔آپ نے غزوہ خیبر کے بعد یہودیوں کے ساتھ جس فراخ دلی کا سلوک فرمایاوہ مستشرقین کو بھی مسلم ہے۔ہے آپ نے حضرت معاذ بن جبل عامل یمن کو تاکید فرمائی: أَن لَّا يُفْتَنَ يَهُودِيٌّ عَنْ يَهُودِيَتِهِ کہ یہودیوں کے ساتھ سلوک میں ایسی صورت نہ اختیار کی جائے جو اُن کے لئے مذہب میں موجب ابتلاء ہو۔بلکہ یہاں تک ثابت ہے کہ آپ کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر آپ کی زندگی میں ہی قبیلہ بنی قینقاع کے اکثر خاندان مدینہ میں واپس آگئے تھے۔پروفیسر اسرائیل نے اس کی بھی توجیہہ کی ہے کہ بنو قینقاع صنعت پیشہ تھے اور کاریگر تھے۔عربوں کو صنعت و حرفت کا تجربہ نہیں تھا۔اس امر کو انہوں نے ان الفاظ میں لکھا ہے: مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ تَقَاضَى الْأَنْصَارُ عَنْ نُّجُوعِ بَعْضِ الْيَهُودِ إِلَى يَشْرِبَ فَأَقْبَلَ عَدَدٌ مِنْهُمْ عَلَيْهَا وَعَكَفُوا يَعْمَلُوْنَ فِي أَعْمَالِهِم القَدِيمَةِ " توجہیہ ایک اختیاری امر ہے۔مصنفین سیرت و مغازی نے یہ تو جیہ بھی کی ہے کہ آپ صحابہ کرام کو مہمات جہاد اور امور نظم و نسق کے لئے محفوظ رکھنا چاہتے تھے کہ بوقتِ (فتوح البلدان للبلاذری، صلح نجران، صفحه ۷۳) الطبقات الكبرى لابن سعد ذكر بعقة رسول الله ﷺ الرُّسُلَ بكتبه، جزء اول صفحه ۲۱۳) (فتوح البلدان للبلاذري، غزوة تبوك وأيلة وذرح ومقنا والجرباء، صفحہ ۶۷) تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب الثامن غزوة خيبر، صفحہ ۱۶۹) فتوح البلدان للبلاذري، وفود أهل اليمن إلى النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، صفحہ ۷۸) (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب التاسع اجلاء اليهود عن البلاد الحجازية ، صفحہ ۱۷۶)