صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 63 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 63

YF صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی دراصل خیبر کے سردارانِ یہود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید دشمن تھے اور آپ سے بنو قریظہ وغیرہ کا انتقام لینے پر تلے ہوئے تھے۔انہوں نے غطفان و فزارہ کو خیبر کے باغات و اراضی وغیرہ کا لالچ دے کر مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے تیار کیا۔قبل اس کے کہ اُن کا منصوبہ جنگ تکمیل پاتا اور بروئے کار لایا جاتا، نبی اکرم علی الم نے خیبر پہنچ کر اپنے ڈیڑھ ہزار صحابہ کے ذریعہ سے ان کا محاصرہ کر لیا۔سلام بن مشکم کے مشورہ سے وصیح اور سلالم کے قلعوں میں عورتیں، بچے اور مال محفوظ کئے گئے اور قلعہ ناعم میں ذخیرے جمع کئے گئے اور قلعہ نطاق میں لڑائی کے لئے فوج متعین کی گئی۔سلام بن مشکم بیمار تھا۔مگر باوجود اس کے وہ خود بھی قلعہ نطاق میں آگیا اور لڑنے والوں کو جوش دلا تار ہا اور آخر لڑائی کے دوران میں ہی اس نے وفات پائی۔فتح کا ارمان پورا ہوتے نہ دیکھ سکا۔مذکورہ بالا بیان سے ظاہر ہے کہ غزوہ خیبر کی ساری ذمہ داری خود سردارانِ یہود پر عائد ہوتی ہے۔پروفیسر اسرائیل لکھتے ہیں کہ یہود خیبر کا کوئی بڑا قصور نہیں تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے باعث ناراضگی ہوتا۔زیادہ سے زیادہ یہی تھا کہ بنو نضیر جو خیبر میں پناہ گزین تھے۔ان کے سرداروں نے قریش و غطفان کو اکسایا، جس کے نتیجہ میں خندق کی جنگ ہوئی۔ان کے الفاظ یہ ہیں : هَذَا إِلَى أَنَّ يَهُودَ خَيْبَرَ لَمْ يَفْعَلُوا مَا يُوعْرُ صَدْرَ الرَّسُوْلِ وَيُثِيرُ حِقْدَهُ عَلَيْهِمْ كَمَا فَعَلَ غَيْرُهُمْ وَكُلُّ مَا كَانَ مِنْهُمْ لَا يَعْدُو اشْتِرَاكَ بَعْضٍ زُعَمَاءِ بَنِي النَّضِيرِ اللَّاجِيْنَ إِلَى يَهُودَ خَيْبَرَ فِي تَحْرِيضِ قُرَيْشٍ وَغَطْفَاتٍ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فِي يَوْمِ الْخَنْدَقِ۔پروفیسر موصوف کے نزدیک یہ بات معمولی ہو اور خیبر میں جو شدید خونریز جنگ ہوئی وہ بھی معمولی ہو تعجب نہیں، دوران غزوہ خیبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوشش ہی کے نتیجہ میں بعض یہودی قبائل نے صلح کی راہ اختیار کی اور فائدہ اُٹھایا۔مگر افسوس ہے کہ آپ کی اس کوشش سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس سے مقصود یہود کو کمزور کرنا تھا۔آپ نے شروع ہجرت سے ہی قبائل یہود کے ساتھ مساوات کا سلوک فرمایا اور ان کے لئے صلح و آشتی کی طرح ڈالی۔مگر جیسا کہ پروفیسر موصوف کو تسلیم ہے کہ وادی یثرب میں نوشتہ تقدیر کو اچھی طرح پورا ہونا تھا جس طرح ہوا اور انہیں یہ بھی تسلیم ہے کہ خیبر کے تین مناطق حربیہ میں سے منطقہ کتیبہ بنسبت منطقہ نطاق اور منطقہ شق کے بہت اچھی حالت میں رہے کہ اس کے اکثر قلعوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلح کرلی تھی۔اس بارے میں ان کے الفاظ یہ ہیں: أَمَّا وَجُودُ مَنْطَقَةِ الْكَتِيبَةِ فِي حَالَةٍ أَحْسَنَ مِمَّا كَانَتْ عَلَيْهِ مَنْطَقَنَا نَطَاةٍ وَالشَّقِ، فَيَرْجِعُ إِلَى أَنَّ أَغْلَبَ أَطَامِهَا صَالَحَ الرَّسُوْلَ فَأَقَامَهُمْ عَلَى أَرَاضِيْهِمْ وَلَمْ يَمَضٌ الْأَنْصَارُ مِنْ حَدَائِقِهِمْ وَزَرَارِيهِمْ شَيْئًا۔تاريخ الخميس الموطن السابع فى وقائع السنة السابعة، غزوة خيبر ، جزء ۲ صفحه ۴۵) (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب الثامن غزوة خيبر ، صفحہ ۱۶۹) تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب الثامن غزوة خيبر، صفحہ ۱۷۴)