صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 62 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 62

صحيح البخاری جلد ۹ ۶۳ ۶۴ - کتاب المغازی جس کی اکثریت سلام بن مشکم اور کنانہ بن ربیع وغیرہ کے زیر اثر تھی۔وہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے لپکا، لیکن خود ہی اپنے ساتھیوں سمیت مارا گیا۔پروفیسر اسرائیل ولفنسون کا خیال ہے کہ وہ دراصل خیبر میں اس لئے آئے تھے کہ یہود میں پھوٹ ڈال کر انہیں کمزور کریں۔اس بارہ میں ان کے الفاظ یہ ہیں: وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةً فَأَنَّهُ لَمْ يَأْتِ إِلَى خَيْبَرَ لِعَقْدِ مُعَاهَدَاتٍ بَلْ لِتَنْفِيْذِ خُطَةٍ سَيَاسِيَةٍ خَطِيرَةٍ كَانَ مِنْ شَأْتِهَا إِضْعَافُ الْيَهُودِ بِقَتْلِ بَعْضٍ زُعَمَائِهِمْ - کہ خیبر میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ کے آنے کی غرض معاہدات قائم کرنا نہیں تھی بلکہ ایک اہم سیاسی منصوبہ کی تنفیذ تھی کہ سرداروں کو قتل کر کے یہود کمزور کر دیے جائیں۔پروفیسر موصوف کا یہ قیاس بہت دور کا اور قابل تعجب ہے اور اس سے بڑھ کر قابل تعجب ان کا یہ قیاس کہ یہودیوں کے پاس ان کے نخلستان باغات اور زمینیں اس لئے چھوڑی گئی تھیں کہ وہ ان میں کام کریں اور ان کی محنت سے نئی اسلامی حکومت فائدہ اُٹھائے، جسے اموال کی ضرورت تھی اور آنحضرت علی ای نیم پسند نہیں کرتے تھے کہ انصار و مہاجرین خیبر میں رہیں اور اسے اپنا وطن بنائیں۔سے ان کا یہ قیاس اس سوال کے جواب میں ہے کہ یثرب کے یہودیوں کے ساتھ وہ نرمی کیوں نہیں برتی گئی جو اہالی خیبر کے ساتھ برتی گئی۔پروفیسر مذکور کے نزدیک گویا آنحضرت صلی علیکم کا حسن سلوک خود غرضی پر مبنی تھا اور ان کو آپ کے سلوک میں کوئی اخلاقی یا روحانی قدریں نظر نہیں آئیں۔امام بخاری کی مذکورہ بالا روایات کا نقطہ محور اخلاقی و روحانی اقدار کا قیام و ظہور ہے جن سے مذکورہ بالا قیاس کا بودا اپن ظاہر وباہر ہے کہ خیبر کی جنگ کسی دنیاوی غرض کے لئے لڑکی گئی تھی۔نیز حضرت علی کو جنگ کے بارے میں جو اصولی ہدایت دی گئی تھی وہ بھی مذکورہ بالا قیاس کو رڈ کرتی ہے۔آپ نے تو مدینہ منورہ میں بھی کوشش فرمائی تھی کہ یہود نیک رویہ اختیار کریں اور مثل دیگر باشندگان شہری حقوق سے متمتع ہوں اور خیبر میں بھی آپ کی یہی کوشش رہی۔پس حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی روانگی اور خیبر میں ان کا قیام اسی غرض سے تھا اور ابن رزام کو مدینہ آنے کی دعوت بھی نیک غرض سے تھی۔مگر بدظنی اور وہم بڑھتے بڑھتے اس سے ناگوار صورت پیدا ہوئی۔ابھی خیبر سے یہ قافلہ صلح دور نہیں گیا تھا کہ ابن رزام نے عبد اللہ بن اُنیس پر حملہ کر دیا اور انہوں نے یہ کہہ کر کہ اے دشمن خدا! غداری کرنا چاہتے ہو اس پر جوابی وار کیا۔جس سے اس کی ران کٹ گئی اور جونہی وہ گھوڑے سے گرا ، فریقین ایک دوسرے پر لیکے اور اس طرح نبی اکرم صلی ال نیم کی نیک کوشش ابن رزام کی بدظنی و بد عہدی کی نذر ہو گئی۔یہ روایت طبقات ابن سعد میں ہے۔تاریخ الخمیس نے بھی یہی بات نقل کی ہے۔" (السيرة النبوية لابن هشام، غزوة عبد الله بن رواحة لِقَتْلِ الْيَسِيرِ بْنِ رِذَامٍ ، جزء ۴ صفحه ۲۶۴ (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب الثامن غزوة خيبر، صفحہ ۱۵۹) تاريخ اليهود فى بلاد العرب، الباب الثامن غزوة خيبر، صفحہ (۱۶۹) الطبقات الكبرى لابن سعد، سرية عبد الله بن رواحة إلى أسير بن زارم ، جزء ۲ صفحہ ۷۰، ۷۱) (تاريخ الخميس الموطن السادس ، سرية عبد الله بن رواحة الى أسير بن رزام ، جزء ۲ صفحه ۱۵)