صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 61 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 61

صحيح البخاری جلد ۹ ۶۱ ۶۴ - کتاب المغازی کے صحیفے بھی صحابہ کر اٹم کو ملے اور یہودیوں کے طلب کرنے پر وہ انہیں دے دیے گئے۔اور وہ ان کے ممنون ہوئے۔انہیں یاد تھا کہ رومیوں نے ۷۰ء میں یروشلم کی فتح پر بیت المقدس کی ہیکل کو کس طرح نا پاک کیا اور مقدس صحیفے پامال کئے اور جلائے اور پھر عیسائیوں نے سپین میں بھی انہی کا سانمونہ دکھایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبری قلعوں کے محاصرہ میں یہودیوں کے جذبات کا پورے طور پر احترام ملحوظ رکھا اور اہتمام فرمایا کہ صحابہ کرام سے اس بارہ میں ادنی سی لغزش یا فروگزاشت صادر نہ ہو۔روایت نمبر ۴۲۳۴ میں ہے کہ وادی القریٰ میں بدعم نامی غلام آپ کا ساز و سامان اونٹ سے اتار رہا تھا کہ اسے اچانک تیر لگا اور صحابہ کرام وہ تیر کاری سمجھ کر بولے کہ اسے شہادت مبارک ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔غنیمت کا مسروقہ مال آگ بن کر اُس سے لپٹا ہوا ہے۔یہ سن کر ایک شخص گیا اور جوتی کے ایک دو تسے لے آیا اور عرض کی کہ یہ مسروقہ مال ہے۔فرمایا: ایک تسمہ ہو یا دو، بہر حال یہ آگ ہے۔اسی مضمون کی ایک روایت کتاب الجہاد میں بھی گزر چکی ہے۔(دیکھئے کتاب الجھاد والسیر، باب ۱۹۰، روایت نمبر ۳۰۷۴) آپ کے شدت احساس و اہتمام کا یہ حال تھا اور اسی احساس کی وجہ سے حضرت علی کو علم قیادت سپرد کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: انْفُذُ عَلَى رِسُلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَيهِمْ ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ ، وَأَخْبِرَهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِ اللهِ فِيهِ ، فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِى اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ محمرُ النَّعَمِ (روایت نمبر ۴۲۱۰) دعوتِ اسلام سے مراد تبدیلی مذہب نہیں بلکہ صلح و آشتی کا پیغام ہے۔چنانچہ حضرت محیصہ بن مسعودؓ کو فدک کے تعلق میں جو ہدایت دی گئی یا وادی القریٰ اور تیاء کے یہودیوں کو آپ کی طرف سے جو پیغام صلح دیا گیا تھا اس میں بھی یہی الفاظ ہیں اور تاریخ میں یہ امر مسلمہ ہے کہ بغیر اپنا مذہبی عقیدہ تبدیل کئے اُن سے مصالحت کی گئی۔کے اسلام کے معنی ہی مسلم وسلامتی اور صلح کے ساتھ رہنا ہے۔خیبر پر حملہ کرنے سے پہلے آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن انیس اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو تیس صحابہ کے ساتھ خیبر روانہ کیا اور فرمایا کہ وہاں جا کر یہودیوں کے ساتھ مصالحت کے بارے میں بات چیت کریں۔یسیر بن رزام یہودی سردار - مدینہ پر حملہ کی تیاریوں میں مصروف تھا۔یہ دیکھ کر حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق ابن رزام سے علیحدہ گفتگو کی اور اسے مصالحت پر آمادہ کر لیا۔آپ نے شرائط صلح طے کرنے کی غرض سے ابن رزام کو مدینہ میں آنے کی دعوت دی اور یہ طے پایا کہ وہ خیبر کا سردار تسلیم کیا جائے گا۔چنانچہ وہ اپنے چند آدمی لے کر بعض صحابہ کے ساتھ مدینہ طیبہ کے لئے روانہ ہو گیا۔راستے میں اسے شبہات پیدا ہونے لگے کہ کہیں اس سے قریب نہ ہو۔بلکہ غالب خیال یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کی مخالفت سے ڈرا (تاريخ الخميس، وقائع السنة السابعة من الهجرة، غزوة خيبر ، قسمة غنائم خیبر، جزء ۲ صفحه ۵۵) تاريخ الخميس الموطن السابع فى وقائع السنة السابعة من الهجرة، فتح فدك، جزء ۲ صفحه ۵۸) المغازى للواقدی، انصراف رسول الله صلى الله عليه وسلم من خَيْبَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، جزء ۲ صفحہ ۷۱۰)