صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 60 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 60

صحیح البخاری جلد ۹ ۶۰ ۶۴ - کتاب المغازی قلعہ ناعم و قموص سے متعلق روایات مغازی میں خلط ملط ہیں۔ابن ہشام اور واقدی نے ان کی جو خبریں نقل کی ہیں، تاریخ الخمیس کے مصنف نے وہ خبریں قلعہ قموص کے ذکر میں بیان کی ہیں۔روایت نمبر ۴۲۱۰ میں اس نقص کا ازالہ کیا گیا ہے۔منطقہ کتیبہ میں وطیح و سلالم کے قلعے بھی تھے۔ان کے باشندوں نے آنحضرت صلی اللی کام سے جنگ نہیں کی۔بلکہ صلح کا پیغام بھیجا جو قبول کیا گیا اور ان کے خون و مال محفوظ رہے۔کہ محاصرہ و طبیح و سلالم کے دوران آنحضرت علی الی یم نے حضرت محیصہ بن مسعودؓ کی زیر قیادت مجاہدین کا ایک دستہ بھیجا جس نے انہیں صلح کی دعوت دی اور یہود فدک نے ان کی یہ دعوت قبول کی اور نصف پیداوار پر صلح قرار پائی۔یہاں بھی کوئی جنگ نہیں ہوئی۔سے آنحضرت علی الیم نے مدینہ واپسی پر وادی القریٰ کے یہودیوں کو بھی صلح کی تحریک فرمائی جو انہوں نے قبول کی اور ان کے اموال و جائیدادیں انہی کے پاس رہنے دی گئیں اور ان سے کسی قسم کا تعرض نہیں کیا گیا۔اسی طرح اہل تیماء نے بھی فدک اور وادی القریٰ کے ساتھ مصالحانہ رویہ کی اطلاع پا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح کرلی اور جزیہ (بدل نقدی) دینا قبول کیا۔ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ اور تربیت سے صحابہ نے خیبر کے معرکوں میں جو صبر و تحمل کا تلخ پیالہ پیا اور نزاہت وضبط نفس کی جو اعلیٰ مثال قائم کی، صحیح بخاری کی روایات میں ان کے کچھ نمونے جمع کیے گئے ہیں جن کا اس شرح میں اختصار سے ذکر کیا گیا ہے۔غرض واقدی کی روایات جو غیر مستند ہیں، قطعا نا قابل اعتبار ہیں اور انہی روایات کی کمزوری اس باب کی مستند روایتوں سے نمایاں کی گئی ہے۔واقدی کی روایات سے تو معلوم ہوتا ہے کہ خیبر کو فقر وفاقہ اور نہایت خستہ حالی اور ویرانی کی حالت میں چھوڑا گیا تھا۔شے بحالیکہ سیرت ابن ہشام کی روایات سے بھی ثابت ہے کہ یہودانِ خیبر کے نخلستان اور زمینیں بطریق مضاربت (بٹائی) انہیں کے پاس رہنے دی گئی تھیں۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو بٹائی کے لئے بھیجا جاتا جو اندازہ سے بٹائی کے حاصلات وصول کیا کرتے تھے اور اس میں غایت درجہ تقویٰ اور عدل و انصاف ملحوظ رکھتے تھے۔" اور تاریخ الخمیس میں تو یہاں تک مروی ہے کہ خیبر کے قابل تقسیم اموال غنیمت میں تورات ( السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة خيبر ، مقتل مرحب اليهودی، جزء ۳ صفحه ۲۸۲، ۲۸۳) المغازى للواقدی، غزوة خيبر، جزء ۲ صفحه ۶۵۶ تا ۶۵۸) تاريخ الخميس الموطن السابع فى وقائع السنة السابعة من الهجرة، غزوة خيبر، جزء ۲ صفحہ ۵۰) (السيرة النبوية لابن هشام، غزوة خيبر، صلح خیبر، جزء ۳ صفحه (۲۸۶) ( تاريخ الخميس الموطن السابع فى وقائع السنة السابعة من الهجرة، فتح قدك، جزء ۲ صفحه ۵۸) تاريخ الخميس الموطن السابع فى وقائع السنة السابعة من الهجرة، فتح وادی القری، جزء ۲ صفحه ۵۹) المغازى للواقدی، انصراف رسول الله صلى الله عليه وسلم من خَيْبَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، جزء ۲ صفحہ ۷۱۳) 1 (السيرة النبوية لابن هشام ، تَسْمِيَّةُ النَّفَرِ الدَّارِثِينَ، خَرْصُ ابْن رَوَاحَةً ثُمَّ جَبَّارٍ عَلَى أَهْلِ خَيْبَرَ، جزء۳ صفحه ۳۰۲۔عمر يجلی یهود خیبر، جزء ۳ صفحه ۳۰۴)