صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 59
صحيح البخاری جلد ۹ ۵۹ ۶۴ - کتاب المغازی فتح ہونے پر یہاں سے صحابہ کو اناج، چربی اور کھجوریں ملیں جو اجازت کے بعد بطور خوراک استعمال کی گئیں۔یہودی عورتوں کے ننگ و ناموس سے تعرض نہیں ہونے دیا گیا۔بجز اس کے کہ مطابق دستور حربی منطقہ نطاق کے اسیروں میں سے غلام لونڈیاں حاصل ہوئیں جو بذریعہ فدیہ آزاد ہو گئیں اور ان اسیر عورتوں سے ہی متعہ منع کیا گیا تھا۔جس کا ذکر روایت نمبر ۴۲۱۶ میں ہے۔قلعہ زبیر بھی منطقہ نطاق میں تھا اور یہ بھی مستحکم قلعوں میں سے تھا۔مجاہدین اسے فتح نہ کر سکے۔واقدی کا بیان ہے کہ ایک مخبر کی اطلاع پر جب زمین دوز آب رسانی کا سلسلہ قلعے سے منقطع کیا گیا تو اسی قلعے والوں نے مجبوراً ہتھیار ڈال دیے۔کے منطقہ نطاق کے قلعے فتح ہونے کے بعد منطقہ شق کے جبل سمؤان پر واقعہ قلعہ اُبی کا محاصرہ ہوا۔کئی معرکوں کے بعد آخر یہ بھی سر ہوا۔کے منطقہ شق کے باقی قلعے بوجہ مصالحت یہودیوں ہی کے پاس رہنے دئے گئے۔منطقہ کتیبہ کے قلعوں میں فوج و ذخائر بطور احتیاط محفوظ رکھے جاتے تھے۔دونوں منطقوں کے قلعوں سے یہودی منطقہ کتیبہ میں جمع ہو گئے اور اپنی ساری طاقت سے مجاہدین اسلام کا مقابلہ کیا۔ان میں سے مشہور اور مضبوط قلعہ قموص تھا، جس کا دوسرا نام نزار تھا۔عبرانی میں نزار کے معنی تاج کے ہیں۔یہ خاندان بنی حقیق کا قلعہ تھا۔قلعہ قموص کی فتح کا تعلق حضرت علی کی قیادت سے ہے، جس کا ذکر روایت نمبر ۴۲۱۰،۴۲۰۹ میں ہے۔اس قلعہ کے فتح ہونے پر عورتیں اور بچے قید ہوئے تھے اور بطور اسیران جنگ ان کی تقسیم عمل میں آئی اور پھر وہ مع بچوں کے بذریعہ فدیہ آزاد ہوئے۔تے انہی میں سے حضرت صفیہ بنت في بن اخطب تھیں۔جن کا باپ جنگ میں مارا گیا اور خاوند بھی جس کا نام کنانہ بن ربیع بن ابی الحقیق تھا۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۹۸) اور ان کے دوسرے رشتہ دار بھی جنگ میں کام آئے اور وہ لاوارث رہ گئیں۔کیونکہ کسی روایت سے یہ معلوم نہیں ہو تا کہ کوئی یہودی بذریعہ فدیہ انہیں آزاد کرانے کے لئے آیا ہو۔رسول کریم صلی الم نے خود انہیں آزاد فرما دیا۔(السيرة النبوية لابن هشام، غزوة خيبر، شأن بنى سهم الأسلميين، جزء ۳ صفحه ۲۸۱) (المغازي للواقدي، غزوة خيبر، جزء ۲ صفحه ۶۶۴ المغازي للواقدی، غزوة خيبر، جزء ۲ صفحه ۶۶۶، ۶۶۷) (البداية والنهاية، سنة سبع من الهجرة، فصل فتح حصونها و قسيمة أَرضِها، جزء ۴ صفحه ۲۲۶،۲۲۵) (تاريخ اليهود في بلاد العرب الباب الثامن غزوة خيبر، صفحہ (۱۶۸) جبکہ اہل سیر و مغازی کے نزدیک النزار نام کا قلعہ منطقہ شق میں واقع تھا۔یہ قلعہ بھی انتہائی مضبوط تھا اور شدید جنگ کے بعد فتح ہوا۔(المغازى للواقدي، غزوة خيبر، جزء ۲ صفحه ۶۶۸) (دلائل النبوة للبيبقى، جماع أبواب مغازى رسول الله، أبواب غزوة خيبر ، بَابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَتْحِ خَيْبَرَ وَمَا ظَهَرَ عِنْدَ بَعْضٍ حُصُونِهَا مِنْ دَلالات النبوة، جزء ۴ صفحه (۲۲۵) المغازى للواقدي، غزوة خيبر، جزء ۲ صفحه ۶۶۹) (مسند احمد بن حنبل، مسند أنس بن مالك، جزء ۳ صفحه ۱۳۸)