صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 58
صحيح البخاری جلد ۹ ۵۸ ۶۴ - کتاب المغازی خیبر جنگی اغراض کے لحاظ سے تین منطقوں میں تقسیم تھا۔ایک منطقہ نطاق، دوسرا منطقه شق، تیسرا منطقه کتیبه - ہر منطقہ میں متعدد قلعے تھے۔ان میں سے ایک قلعہ نائم تھا۔جہاں کئی روز لڑائی ہوتی رہی اور یہ قلعہ سر نہ ہوا۔اس قلعہ کے سرداروں میں حارث ابوزینب، مرحب، ائیر ، یاسر اور عامر کے نام ملتے ہیں۔ان کے مارے جانے پر آخر یہ ما قلعہ فتح ہوا۔ہے اس کے بعد مجاہدین نے قلعہ صعب معاذ کا محاصرہ کیا۔معاذ عبرانی میں بلند چٹان کو کہتے ہیں اور عربی میں اس کا معنی طلباء و مادی یعنی پناہ گاہ ہے۔یہ قلعہ ایک چٹان پر واقع ہونے کی وجہ سے قلعہ معاذ کے نام سے مشہور تھا۔سے لفظ صعب (سنگین) سے ظاہر ہے کہ وہ ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا اور منطقہ نطاق کے نہایت مستحکم قلعوں میں سے تھا اور دوہری فصیلوں سے محفوظ شدہ۔اس کی بیرونی فصیل میں شگاف کیا گیا اور اندورنی فصیل گرانے کے بعد یہ قلعہ فتح ہوا اور اس پر قبضہ کیا گیا۔یہود یہاں سے قلعہ زبیر میں منتقل ہو گئے۔محاصرہ قلعہ صعب کے دوران مجاہدین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خوراک نہ ہونے کی شکایت کی تو آپ کے پاس بھی خوراک نہ تھی جو آپ انہیں دیتے۔آپ اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہوئے اور کہا: اَللَّهُمَّ اِنَّكَ قَدْ عَرَفْتَ حَالَهُمْ وَأَنْ لَيْسَتْ بِهِمْ قُوَّةٌ وَأَنْ لَيْسَ بِيَدِى شَييٌّ أُعْطِيهِم آیا ہے یعنی الہی اتجھے علم ہے جو اُن کا حال ہے۔بھوک کے مارے وہ نڈھال ہیں۔مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتے اور میرے ہاتھ میں بھی کچھ نہیں جو انہیں دوں۔اس وقت آنحضرت صلی اللہ ہم نے گھوڑے ذبح کرنے کی اجازت دی۔(روایت نمبر ۴۲۱۹) صحیح بخاری سے اس اضطراری حالت کی تصدیق ہوتی ہے۔اس بارہ میں متعدد روایتیں نقل کی گئی ہیں۔خیبر فتح ہونے کے بعد صحابہ کرام نے کھجوریں سیر ہو کر کھائیں۔(روایت نمبر ۴۲۴۲، ۴۲۴۳) حضرت صفیہ کے ولیمہ میں بھی روٹی نہیں تھی، بالکل سادہ سی خوراک تھی۔(روایت نمبر ۴۲۱۳) محاصرہ کے اثناء میں کسی نے چربی کا تھیلہ پھینکا، وہ ایک مجاہد نے لپک کر لینا چاہا۔مڑ کر جو دیکھا تو آنحضرت صلی الیہ کم پاس ہی تھے۔اس پر مجاہد صحابی اپنی اس حرکت پر شرمندہ ہو گئے۔(رویت نمبر ۴۲۱۴) قلت خوراک کی اس حالت اضطرار سے متعلق متعدد روایتیں نقل کرنے کے ساتھ امام بخاری نے ایسی روایتیں بھی نقل کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر کی کڑی نگرانی رکھی کہ مغلوب دشمن سے کوئی شئے نہ چھینی جائے۔مکمل فتح ہونے کے بعد خمس (پانچواں حصہ غنیمت) مطابق دستور تقسیم ہوا۔جنگ ختم ہونے سے پہلے صحابہ کرام نے صبر ، ضبط نفس، شجاعت اور ثبات کا جو اعلیٰ نمونہ دکھایا، وہ حیرت انگیز ہے۔یہودیوں کے ذخائر سے تعرض نہیں کیا گیا سوا اس کے کہ کوئی ذخیرہ یہود مفتوحہ قلعہ میں چھوڑ گئے ہوں۔جیسا کہ قلعہ صعب الرحيق المختوم ، غزوة خيبر ، التهيؤ للقتال وحصون، خیبر ، صفحه ۳۰۵،۳۰۴) المغازى للواقدي، غزوة خيبر، جزء ۲ صفحہ ۶۵۷) (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب الثامن غزوة خيبر ، صفحہ ۱۶۷) (السيرة النبوية لابن هشام، غزوة خيبر، شأن بنى سهم الأسلميين، جزء۳ صفحه ۲۸۱)