صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 57
صحیح البخاری جلد ۹ ۵۷ ۶۴ - کتاب المغازی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے دوران بھی صحابہ کرام کو اُن کے روحانی نصب العین سے غافل نہیں ہونے دیا اور ان کا قدم جادۂ اخلاق فاضلہ پر مضبوطی سے قائم رکھا۔(دیکھئے روایت نمبر ۴۱۹۸، ۴۲۰۵، ۴۲۰۷، ۴۲۱۰) جو لوگ جنگ اور اسلامی جہاد میں امتیاز نہیں کرتے ان کے لئے یہ بات سمجھنا مشکل ہے۔عام لڑائیوں میں غنیمت سے متعلق اور قواعد ہیں اور جہاد میں اور دونوں قسم کی جنگوں کا مدعا بالکل مختلف ہے۔جہاد کے لئے سب سے پہلی شرط اور پہلا قاعدہ نیت صالحہ ہے۔اگر نیت صالحہ نہ ہو تو جہاد کا مفہوم بھی نہیں رہتا۔اس کا اہم مقصد اعلائے کلمتہ اللہ اور مظلوم کی حمایت ہے۔(دیکھئے کتاب الجهاد والسیر، باب ۱۰، ۱۴۸،۱۵) ی روایت نمبر ۲۲۱۰،۴۲۰۹ میں حضرت علی کے ذریعہ سے جس قلعہ کے فتح ہونے کا ذکر ہے، اس کا نام قموص تھا جو خیبر کے قلعوں میں سے سب سے زیادہ مستحکم تھا۔کتب مغازی میں ہے کہ اس کا محاصرہ میں روز تک رہا اور شدید معرکوں کے بعد حضرت علی کے ہاتھ پر فتح ہوا۔اس تعلق میں بعض مبالغہ آمیز روایتیں منقول ہیں۔مثلاً حضرت علی کے ہاتھ سے ڈھال گر گئی تو آپ نے قلعہ کا دروازہ اکھاڑ کر اسے بطور ڈھال استعمال کیا۔یہ دروازہ اتنا بھاری تھا کہ ابن اسحاق نے حضرت ابو رافع کی روایت نقل کی ہے کہ قلعہ سر ہونے کے بعد میرے سمیت آٹھ آدمیوں نے اسے الٹانا چاہا تو نہ الٹا سکے اور اس بارہ میں حاکم نے حضرت جابر سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت علی نے لڑائی کے جوش میں اسے اٹھا لیا تھا۔بعد میں چالیس آدمیوں نے اس دروازہ کو اُٹھانے کی کوشش کی مگر نہ اُٹھا سکے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۹۷) ایسی تمام روایتیں غیر مستند اور ضعیف ہیں۔اس لئے امام بخاری نے انہیں نظر انداز کر دیا ہے۔ان روایتوں میں یہ بھی ذکر ہے کہ مرحب نامی مشہور سردار کا مقابلہ حضرت علی سے ہوا اور وہ قتل ہوا۔اس موقع پر اس نے یہ رجزیہ شعر پڑھا تھا: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَي مَرحَب۔جس کا جواب حضرت علی نے یہ دیا: أَنَا الَّذِي سَمَّثْنِي أُتِي حَيْدَرَهُ _ جبکہ بعض روایات کے مطابق مرحب کا مقابلہ حضرت محمد بن مسلمہ سے قلعہ ناعم کے محاصرہ کی لڑائی میں ہوا تھا اور وہ اُن کے ہاتھوں قتل ہوا۔سے (تاريخ الخميس الموطن السابع فى وقائع السنة السابعة من الهجرة، غزوة خيبر، جزء ۲ صفحه ۴۸) (السيرة الحلبية، ذكر مغازيه ، غزوة خيبر، جزء۳ صفحه (۶۰) (صحیح مسلم، کتاب الجهاد والسير ، باب غزوة ذی قرد و غیرها) (مسند أحمد بن حنبل، مسند جابر بن عبد الله الله، جزء۳ صفحه ۳۸۵) (المستدرك على الصحيحين، كتاب معرفة الصحابة، ذكر مناقب محمد بن مسلمة الأنصاري ) (السيرة النبوية لابن هشام، غزوة خيبر، مقتل مرحب، جزء ۳ صفحه ۲۸۲، ۲۸۳)