صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 56
صحیح البخاری جلد ۹ AY ۶۴ - کتاب المغازی اعلان فرمایا اور نماز فجر کے بعد اُن کے قلعوں کی طرف متوجہ ہوئے۔آپ کے الفاظ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ( روایت نمبر ۴۱۹۷) سے ظاہر ہے کہ یہود کو تنبیہہ کی جاچکی تھی کہ وہ معاندانہ رویہ اختیار نہ کریں اور روایت نمبر ۴۱۹۶ و ۴۲۰۰ سے ظاہر ہے کہ خیبر میں کئی روز لڑائی ہوتی رہی جس میں لڑنے والے مارے گئے اور مغلوب ہونے کے بعد وہ قید ہوئے اور اُن سے جنگی قیدیوں کا سا سلوک کیا گیا۔حضرت صفیہ سردار بنو نضیر کی بیٹی اور اس کے ایک سردار کی بیوی تھیں۔ان کا باپ غزوہ بنی قریظہ میں اور شوہر خیبر میں مارا گیا اور یہ دحیہ کلبی کے حصہ میں آئیں۔جب معلوم ہوا کہ یہ سردار کی بیٹی اور سردار کی بیوی ہیں تو چونکہ دستور جنگ کے خلاف تھا کہ ایک سردار کی عورت یا بیٹی ایک عام سپاہی کی کنیز بنائی جائے۔خود حضرت صفیہ نے آنحضرت صلی یکم کی حرم بننے میں اپنی عزت افزائی سمجھی۔- عرب و یہود میں تعلقات مصاہرت ( دامادی) کا عام رواج تھا۔بنو اسحاق اور بنو اسماعیل نسلاً ایک ہی جد امجد سے تعلق رکھنے والے تھے اور بلحاظ عقیدہ موحد اور ان کا تمدن بھی ایک سا، زبان عربی ان کی مشترکہ مایہ ناز زبان تھی۔سموئیل یہودی کا عربی زبان کا فخر یہ قصیدہ مشہور ہے۔سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت صفیہ کی آخری دم تک وفاداری بین دلیل ہے کہ ازدواجی تعلقات میں ناخوشگواری کی صورت نہ تھی۔بعض صحابہ کو بے شک اس تعلق سے قدرے خدشہ پیدا ہوا اور وہ پہرہ دینے لگے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ کی طرف سے مطمئن تھے۔وہ آزاد ہونے کے بعد اپنی مرضی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آئیں۔اس تعلق میں دیکھئے روایات نمبر ۲۲۰۰، ۴۲۰۱، ۲۲۱۱، ۴۲۱۲، ۴۲۱۳۔جہاد فی سبیل اللہ کے لئے نیت اسی طرح ضروری ہے جس طرح دیگر اعمال صالحہ کے لئے۔قزمان ابو العید اق بھی خیبر کی جنگ میں شریک ہوا تھا۔لیکن نیت صالح نہ ہونے کی وجہ سے اس کا عمل اکارت گیا۔(دیکھئے روایت نمبر ۲۲۰۳،۴۲۰۲۔فتح الباری جزء صفحه ۵۸۹) باب کی روایات سے ظاہر ہے کہ غزوہ خیبر میں صحابہ کرام کی شمولیت اموالِ غنیمت کی غرض سے نہ تھی۔سورة الفتح آیت ۲۰ میں مَغَانِمَ كَثِيرَةٌ يَأْخُذُونَهَا الہی وعدہ تھا کہ صحابہ کو بہت سے اموال غنیمت ملیں گے جو اللہ تعالیٰ کی داد و دہش تھی۔صحابہ کرام کا جہاد سے یہ مقصود نہ تھا کہ انہیں دنیا کا مال و متاع ملے۔چنانچہ خیبر کے قلعے فتح ہونے پر اُن کا گزارہ معمولی خوراک ستو، کھجور وغیرہ پر رہا اور انہوں نے اس وقت تک مالِ غنیمت کی طرف توجہ نہیں کی جب تک کہ حسب قواعد اُن کا حصہ غنیمت انہیں نہیں دیا گیا۔(مسند احمد بن حنبل، مسند أنس بن مالك، جزء ۳ صفحه ۱۳۸) (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب الأول اليهود في بلاد الحجاز، صفحه ۲۶،۲۵) إمتاع الأسماع للمقريزي غزوة خيبر، إعراسه بصفية بنت حيي، جزء اول صفحه ۳۲۵) (المغازى للواقدي، غزوة خيبر ، انصراف رسول الله ﷺ من خيبر الى المدينة، جزء ۲ صفحه ۷۰۸)