صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 55
صحیح البخاری جلد ۹ ۵۵ ۶۴ - کتاب المغازی مذکورہ بالا مثالوں سے ظاہر ہے کہ فتح خیبر کی تفصیلات کا صحیح علم نہیں۔ڈیڑھ سو سال کے بعد روایتیں جمع کی گئیں۔اس لئے امام بخاری نے کتب مغازی و سیرت و تاریخ کی روایتیں قبول نہیں کیں اور صرف وہی روایتیں قبول کی ہیں جو ان کے اپنے بلند معیار صحت پر پوری اترتی ہیں اور اُن روایتوں سے مؤلفین مغازی و سیر کی بعض غلطیوں کا ازالہ بھی ضمناً مقصود ہے۔جیسا کہ مندرجہ بالا مثالوں سے عیاں ہے۔غزوہ خیبر کی تاریخ وقوع کا جہاں تک تعلق ہے اس کا ذکر باب ۳۷ (غزوةُ ذَاتِ الْقَرِدِ) کی شرح میں گزر چکا ہے کہ اس غزوہ کے معا بعد چھٹے سال ہجرت میں خیبر پر چڑھائی کی گئی تھی۔غزوہ ذی قرد جس کا ذکر باب ۳۱ میں بھی ہے وہ غالبا ابتدائی کڑی ہے اس سلسلہ یورش و حملات کی جو بنو فزارہ، حلفاء یہود کی طرف سے مدینہ پر کئے گئے تھے۔انبی حملوں کے تسلسل میں خیبر پر لشکر کشی ہوئی۔جو دراصل جوابی کارروائی تھی۔یہ واقعہ چھٹے سال ہجرت کے آخر اور ساتویں سال ہجرت کے شروع کا ہے۔مذکورہ بالا روایتوں کا خلاصہ حسب ذیل ہے: آنحضرت صلی ای ام و صحابہ کر ام قلت سامان و خوراک کے ساتھ مدینہ سے دعائیں کرتے نکلے تھے۔إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَبَيْنَا وَبِالغِيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا جب کبھی ہم جنگ کے لیے پکارے گئے ہم انکار کرتے رہے اور جنگ کی للکار ہی سے وہ ہم پر اکڑنے لگے۔شدید بھوک کی حالت میں مجاہدین اسلام نے خیبر کے قلعوں کا محاصرہ کیا اور جب وہ قلعے فتح ہوئے تو ان بھوک کے ستائے ہوئے مجاہدین نے اپنی بھوک کا علاج گدھوں کے گوشت سے تو گوارا کر لیا مگر لوٹ مار کی طرف توجہ نہیں کی۔(روایت نمبر ۴۱۹۶) اور بعض ثقہ روایات سے ظاہر ہے کہ چونکہ تقسیم غنیمت سے قبل یہ گدھے ذبح کئے گئے تھے ، اسی لئے پکتی ہانڈیاں الٹوائی گئیں اور ان کے گوشت استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔اس تعلق میں روایت نمبر ۴۱۹۹ و ۴۲۲۷ سے معلوم ہوتا ہے کہ بار برداری کی مشکلات کے پیش نظر گدھوں کے گوشت کے استعمال سے منع کیا گیا۔اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت دی گئی (روایت نمبر ۴۲۱۹) کیونکہ گدھا بار برداری کا جانور ہے۔بعض نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ تقسیم غنیمت سے قبل بعض صحابہ نے گدھوں کو ذبح کر کے ان کے گوشت پکانے شروع کر دیے تھے۔(روایت نمبر ۴۲۲۰) یہ بھی ثقہ روایت ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کئی ایک وجوہات اس ممانعت کی پیدا ہو گئی تھیں۔روایت نمبر ۴۲۲۰ سے پایا جاتا ہے کہ صحابہ کرام نے اضطراری حالت میں ایسا کیا تھا۔حالت اضطرار میں تو خنزیر کے استعمال کی بھی اجازت دی گئی ہے۔یہ مسئلہ الگ اپنے موقع پر آئے گا۔حمد بیشتر اس کے کہ یہودِ خیبر اپنے منصوبہ جنگ کے مطابق مدینہ پر حملہ آور ہوتے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کا محاصرہ کر لیا۔آپ وہاں رات کو پہنچے اور قیام فرمایا۔یہود پر اُن کی بے خبری میں حملہ نہیں کیا۔بلکہ بذریعہ اذان اپنی آمد کا