صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 54 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 54

صحیح البخاری جلد ۹ ۵۴ ۶۴ - کتاب المغازی باوجود صحابہ کی قلت تعداد و قلت سامان ان پر شب خون مارنے اور اچانک حملہ کرنے سے منع فرمایا اور حضرت علیؓ کو ہدایت فرمائی کہ ان کے ساتھ جنگ میں دھیما پن اختیار کریں۔پہلے دعوت اسلام دیں وغیرہ ( روایت نمبر ۴۲۱۰) باب ۳۸ کی متعدد روایات میں بار بار اس بات کا ذکر ہے کہ ذبح کئے ہوئے جانوروں کے گوشت کی ہانڈیاں تک اُلٹوا دی گئیں۔اس کی توجیہہ میں اختلاف ہے۔لیکن بعض کا یہ خیال ہے کہ وہ جانور تقسیم غنیمت سے پہلے ذبح کئے گئے تھے جو جائز نہیں تھا۔(روایت نمبر ۴۲۲۰) اور اس اختلاف سے بھی پتہ چلتا ہے کہ مابعد میں جو روایتیں مشہور ہوئیں اور واقدی جیسے مؤرخین نے نقل کیں، وہ ضروری نہیں کہ قابل اعتماد ہوں۔کیونکہ غزوہ خیبر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تسمہ تک ناجائز طریق پر لینا روک دیا۔(دیکھئے روایت ۴۲۳۴) اور عام جنگی دستور کے خلاف متعہ تک سے بھی صحابہ روکے گئے۔(دیکھئے روایت نمبر ۴۲۱۶) حضرت صفیہ بنت محي بن اخطب سے آپ کے باقاعدہ نکاح کرنے کا ذکر بھی روایات زیر باب میں آتا ہے (دیکھئے روایات نمبر ۴۲۰۰، ۴۲۰۱) اور یہ نکاح متحارب فریقین کے مسلمہ سمجھوتے اور دستور اور حضرت صفیہ کی رضا مندی سے تھا۔جس کی مزید تفصیل الگ بیان ہوگی۔فتح خیبر پر بہت سی توقعات ہو سکتی تھیں مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عادلانہ و کریمانہ رویہ کی وجہ سے ایسے تصورات کی بیخ کنی ہو جاتی ہے۔اسلامی ضابطہ جنگ کے مطابق تقسیم اموال غنیمت بہت محدود رہی۔(دیکھئے روایات نمبر ۴۲۲۸، ۴۲۲۹، ۴۲۳۳، ۴۲۳۴، ۴۲۳۸ آپ کے اہل بیت تک محروم رہے اور یہ محرومی بعد میں بھی قائم رہی۔(دیکھئے روایت نمبر ۴۲۴۰، ۴۲۴۱) غرض اس مختصر تبصرہ سے واقدی والی روایت کی حقیقت از خود واضح ہو جاتی ہے۔ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ غطفان کو کہلا بھیجا کہ یہودیوں کا ساتھ نہ دو، ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔یہود نے اپنے باغات کی نصف پیداوار دینے کا تمہیں وعدہ کیا ہے۔ہم تمہیں خیبر فتح ہونے پر فلاں علاقہ دے دیں گے۔مگر قبیلہ غطفان نے نہیں مانا اور کہا کہ یہود ہمارے ہمسایہ اور حلیف ہیں۔ہم ان کی مدد کریں گے۔جب خیبر فتح ہوا تو بنو فزارہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ کیا اور آپ نے ذوالرقیبہ کا پہاڑی علاقہ انہیں دے دیا۔جس پر عیینہ سردار بنی فزارہ ناراض ہو گیا اور علاقہ قبول نہ کیا۔بنو فزارہ غطفان ہی کی ایک شاخ تھی اور وہ اپنے قبیلہ غطفان سے ہم آہنگ تھے۔لیکن انہوں نے ظاہر داری سے کام لیا اور مناسب فرصت کے انتظار میں رہے۔اس روایت میں دو متضاد باتیں مذکور ہیں کہ اس قبیلے نے آنحضرت صلی اللہ وسلم کی بات قبول نہیں کی اور اس کے باوجود اس نے وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔اگر یہ بات درست ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس قبیلہ نے یہودیوں کے ساتھ غداری کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل گیا تھا۔ورنہ ایفائے وعدہ کا مطالبہ غلط تھا۔ان روایات میں اس امر کا کوئی ذکر نہیں۔۔(تاريخ الخميس، غزوة خيبر، جزء ۲ صفحه (۵۵) (المغازي للواقدي، غزوة خيبر ، جزء ۲ صفحه ۶۷۵-۶۷۶)