صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 53
صحیح البخاری جلد ۹ ۵۳ ۶۴ - کتاب المغازی تعجب ہے کہ مذکورہ مسلمہ اور واضح حقائق کی موجودگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی نیت سے متعلق یہ ظاہر کیا جائے کہ یہودیوں کو مدینہ ویثرب سے نکال کر اُن کی جائیدادوں پر قبضہ کرنے کی انہیں طمع تھی۔ تقویٰ کی راہ ترک کی جائے تو بدظنی سے ہر نیک عمل بری شکل میں دکھایا جا سکتا ہے اور ہر پاکباز انسان بد نام کیا جا سکتا ہے۔ (نمونہ کے لئے دیکھئے کتاب الأنبياء، تشریح ابواب ۳۹، ۴۰) غزوہ خیبر سے متعلق ۴۹ روایتیں نقل کی گئی ہیں۔ ان روایات میں کوئی ایسی روایت نہیں جس میں غزوہ خیبر کے زمانہ وقوع کا ذکر ہو، اور نہ ان اسباب کا ذکر ہے جو اس جنگ کا باعث ہوئے، نہ یہ ذکر ہے کہ کتنے عرصہ تک یہ جنگ رہی اور کس کس قلعہ کی طرف سے مقابلہ کیا گیا۔ یہ باتیں کتب مغازی ابن ہشام و ابن سعد اور تاریخ الخمیس و فتوح البلد ان وغیرہ میں مذکور ہیں۔ واقدی نے بھی اس تعلق میں روایتیں نقل کی ہیں جو مبالغہ آمیز ہیں۔ مثلاً انہی کی ایک روایت میں آتا ہے کہ فتح خیبر ہونے پر مسلم مجاہدین نے یہودیوں کو ٹوٹا اور تن بدن کے کپڑے تک اُتار لئے گئے۔ بجو ستر پوش اور کوئی چیز ان کے پاس نہیں رہنے دی گئی سوائے عورتوں اور بچوں کے۔ اور اسی صفحہ پر ان کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ امن دیئے جانے کے بعد یہود غنائم کی خرید و فروخت میں مشغول ہو گئے۔ مستشرقین نے واقدی کی اس روایت کو ان الفاظ میں درج کیا ہے کہ منطقہ کتیبہ سے یہود آئے تاکہ قلعہ قموص کی قیمت خریدیں اور قیدی عورتیں اور بچے فدیہ دے کر آزاد کرائیں۔ کے اگر پہلی روایت درست ہو کہ یہودیوں کے پاس کچھ نہیں چھوڑا گیا اور وہ لوٹے گئے تھے تو فدیہ کے لیے اُن کے پاس مال کہاں سے آیا؟ امام بخاری نے واقدی کی ایسی کمزور روایات کو نظر انداز کیا بلکہ ان کے خلاف ایسی روایت نقل کی ہے جس سے ان روایات کی تکذیب ہوتی ہے۔ مثلاً باب کی چالیسویں روایت ہے : افْتَتَحْنَا خَيْبَرَ وَلَمْ نَغْنَمُ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً ، إِنَّمَا غَيْمْنَا الْبَقَرَ وَالْإِبِلَ وَالمَتَاعَ والحوائط (روایت نمبر ۴۲۳۴) یعنی ہم نے خیبر فتح کیا اور سونا چاندی غنیمت میں نہیں لیا۔ مال مویشی اور سامان قابل استعمال اور (کھجوروں کے باغات ہی تھے جو ہم نے لئے۔ ظاہر ہے کہ ہر فاتح مفتوح سے مالِ غنیمت حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام اس جنگ میں مظلوم تھے اور انہیں اپنی خود حفاظتی کے لئے قدم اُٹھانا پڑا۔ باب نمبر ۴۰ کے عنوان اور اس کی روایت میں مذکور ہے کہ نخلستان (الحوائط ) یہودیوں ہی کو بٹائی پر دے دیئے گئے تھے۔ (نمبر ۴۲۴۸) اور بوقت تحصیل بٹائی عدل و نرمی برتنے کی ہدایت تھی۔ روایت نمبر ۴۱۹۷ سے بھی واقدی کی مشار الیہا روایت مبالغہ آمیز ثابت ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (كتاب المغازى للواقدي، غزوة خيبر، جزء ۲ صفحه ۶۶۹) (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب الثامن غزوة خيبر ، صفحہ ۱۶۹، ۱۷۰) (صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب :۳۹ استعمال مال النبي على أهل خیبر، روایت نمبر ۴۲۴۴) (سنن ابی داود، کتاب البيوع، باب في المساقاة)