صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 52 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 52

صحیح البخاری جلد ۹ ۵۲ ۶۴ - کتاب المغازی ان میں سے بعض نے دعوت صلح قبول کی اور فائدہ اُٹھایا۔مگر یہود خیبر نہ مانے اور مدینہ پر بھر پور حملہ کرنے کی بہت بڑی تیاری کی اور آخر شکست کھائی اور ان کی یہ شکست بھی آیات بینات میں سے ایک بہت بڑا نشان ہے کہ جتنا طاقتور و متکبر و مغرور یہ دشمن تھا اتنی ہی ذلت و نکبت کا بدترین انجام اس دشمن نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ السلام اپنی قوم کو ان الفاظ میں متنبہ اور آگاہ فرما چکے تھے: " میں اُن کے لئے انہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی بر پاکروں گا اور اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اُسے حکم دوں گا وہی وہ اُن سے کہے گا اور جو کوئی میری اُن باتوں کو جن کو وہ میر انام لے کر کہے گا نہ سنے تو میں اُن کا حساب اُس سے لوں گا۔“ (استثناء باب ۱۸ : ۱۸ تا ۱۹) غزوہ خیبر کا تعلق عہد نبوی کے تیسرے دور سے ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متحارب قبائل قریش کو صلح و امن کی دعوت دی اور اس کی ابتداء صلح حدیبیہ سے ہوئی۔اسی دوران بادشاہوں کو خطوط لکھے گئے اور ان تک پیغام اسلام پہنچایا گیا۔اطراف عرب سے وفود مدینہ میں آئے اور لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔بعثت نبوی کی غرض اقوام عالم کو کلمہ توحید پر جمع کرنا تھی۔جس کی بنیاد مدینہ منورہ میں اُٹھائی گئی کہ مدینہ کے قبائل عرب و یہود وغیرہ کو میثاق مدینہ میں منسلک کر کے وحدت ملی کی صورت و شکل قائم کی جائے اور اس کے علاوہ ہر قبیلہ کے ساتھ حسب حال خاص معاہدات بھی کئے گئے۔اس بات کا اقرار پروفیسر اسرائیل اور دیگر مستشرقین کو بھی ہے۔چنانچہ پروفیسر اسرائیل لکھتے ہیں : أَمَّا الْغَرَضُ الَّذِى كَانَ يَرْمِي إِلَيْهِ الرَّسُولُ مِنْ وَرَاءِ هَذِهِ الصَّحِيفَةِ وَمَا إِلَيْهَا مِنْ الْيَهُودِ الَّتِي عَقَدَهَا مَعَ بُطُوْنٍ يَثْرِبَ فَهُوَ هَدْمُ النَّظَامِ الْقَدِيمِ وَالْجَادِ نَظَامٍ جَدِيدٍ يُمْكِنُ بِهِ أَن تَتَوَكَّدَ الْعَنَاصِرُ الْيَشْرَبِيَّةُ وَأَن تَعُودَ يَشْرِبَ بَعْدَ فُرْقَةٍ أَحْيَاءِهَا مَدِينَةٌ واحِدَن لے یعنی میثاق مدینہ اور اس سے متعلق دیگر معاہدات سے رسول عربی کو غرض یہ تھی کہ پرانا نظام (جو تفرقہ پر مبنی تھا ) ختم کر کے نیا نظام قائم کیا جائے جس کے ذریعہ سے یثربی قبائل کا تفرقہ مٹ کر سب ایک سلسلہ وحدت میں منسلک ہو جائیں اور مختلف و منتشر بستیوں میں منقسم ہونے کی جگہ ان کا ایک مشتر کہ مرکز ہو۔یہ غرض مقامی وحدت سے تعلق رکھتی تھی۔لیکن اس غرض سے بڑھ کر دعوت نبویہ کا مقصود و نصب العین عالمگیر وحدت تھی۔جنگیں نہ تھیں۔آتش جنگ تو دشمنانِ اسلام کی طرف سے بھڑکائی گئی اور آخر وہی اس کا ایندھن بنے۔جس سے بچنے کے لئے انہیں ان الفاظ میں قبل از وقت متنبہ کیا جاچکا تھا: فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدتُ لِلْكَفِرِينَ ) (البقرة : ۲۵) 1 تاريخ اليهود في بلاد العرب الباب السادس هجرة الرسول إلى يثرب، صفحه (١١٦) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " اُس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔وہ کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔“