صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 51
صحیح البخاری جلد ۹ ۵۱ ۶۴ - کتاب المغازی سلام بن ابی الحقیق اور کنانہ بن ربیع جن کا ذکر اس روایت میں ہے یہی وہ سرغنے تھے جو خیبر میں جا کر مدینہ حملہ کرنے کی بہت بڑی تیاری میں مشغول ہو گئے تھے اور جیسا کہ ابھی تفصیل سے بتایا جائے گا کہ ان کی اس تیاری کے دوران میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف صلح و آشتی کا ہاتھ بڑھایا جو رڈ کیا گیا۔آپ کی ہمیشہ خواہش رہی کہ یہود کے ساتھ تعلقات استوار ہوں اور آپ کی اس خواہش پر سب سے بڑی تاریخی شہادت معاہدات کا تحریری وجود ہے، جسے سیرت نگاروں ابن ہشام و ابن سعد اور مؤرخین و مفسرین نے محفوظ رکھا ہے۔نہ صرف یثرب کے قبائل یہو دہی سے بلکہ یہودانِ خیبر و تیاء و وادی القریٰ اور یہود بنی غدیہ وغیرہ سے بھی معاہدات ضبط تحریر میں لائے گئے تھے کے اور آپ کی اس نیک خواہش کو خود پر وفیسر اسرائیل بھی مانتے ہیں۔یہود اہل کتاب تھے۔دعوت اسلام کو سمجھنے کی مشرکین کی نسبت زیادہ اہلیت رکھتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ ہم دل سے چاہتے تھے کہ وہ حق کو قبول کریں۔بلکہ صحابہ کر اٹم کی بھی یہی خواہش تھی جیسا کہ آیت اَفَتَطْعُونَ أَنْ يُؤْمِنُوا لَكُمْ (البقرة:4) سے ظاہر ہے۔فرماتا ہے: کیا تم اُمید رکھتے ہو کہ وہ (یہودی) تمہاری بات مان لیں گے۔وَ لَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصْرُى حَتَّى تَتَّبِعَ مِنتَهُمُ (البقرة: ١٢١) یہود و نصاری تا وقتیکہ تو ان کے مذہب کی پیروی نہ کرے تجھ سے کبھی راضی نہیں ہوں گے اور فرماتا ہے۔لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَا وَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا (المائدة: ۸۳) مومنوں کے سب سے بڑھ کر دشمن لوگ تو یہودیوں اور مشرکوں کو پائے گا۔یہ وہ شدید مذہبی دشمنی تھی جو اُن کو اندھا کئے ہوئے تھی۔پروفیسر اسرائیل بھی لکھتے ہیں کہ بلادِ عربیہ میں مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن دو ہی تھے۔قریش مکہ اور یہود کے قریش نے کئی جنگوں سے چور ہو کر ہتھیار ڈال دیے اور دس سال کے متارکہ جنگ کا عہد و پیمان کر لیا۔مگر یهود دولت و ثروت، قوت و طاقت اور سطوت و جبروت کی وجہ سے نہ صرف قبائل عرب میں اصحاب نفوذ واثر تھے۔بلکہ ایرانی سلطنت میں بھی ان کا اثر و رسوخ تھا اور اس میں شک نہیں کہ تمام وسائل مقابلہ و قتال کے لحاظ سے قریش کی نسبت وہ زیادہ قوی اور طاقتور تھے اور ان کی عداوت کی شدت بھی قریش کی عداوت سے بڑھ کر تھی۔اس لئے انہوں نے جنگ جاری رکھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت پریکار میں بھی یہود خیبر و تیاء اور وادی قری وغیرہ کو صلح کے پیغام بھیجے۔جیسا کہ ابھی تفضیل سے اس کا ذکر آئے گا۔(السيرة النبوية لابن هشام، الرسول يوادع اليهود، جزء ۲ صفحه ۱۴۳) (مجموعة الوثائق السياسية، معاهدة مع يهود المدينة صفحه ٩٣ - الى يهود خیبر صفحہ ۹۲، ۹۳۔أمان اليهود بني عاديا من تيماء صفحه ۹۸ - رواية أخرى عن معاهدة مقنا المذكورة صفحه (۱۲۱) تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب السادس هجرة الرسول إلى يثرب، صفحه ۱۱۵) (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب السادس هجرة الرسول إلى يثرب، صفحه 111) (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب الثامن غزوة خيبر ، صفحہ ۱۶۲)