صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 50
صحيح البخاری جلد ۹ ۵۰ ۶۴ - کتاب المغازی باب ۱۴ کی تشریح میں بتایا جا چکا ہے کہ بنو نضیر غزوہ اُحد میں قریش مکہ کے معاون تھے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ کی سے ان کی یہی غداری ہی درحقیقت ان کی جلا وطنی کا موجب بنی۔ورنہ اس سے پہلے آنحضرت صلی الہ وسلم کے ساتھ اُن کے تعلقات بظاہر خراب نہیں تھے۔لیز نسکی (Leszynsky) وغیرہ مستشرقین کو بھی ان تعلقات کے استوار رہنے کا یہاں تک یقین ہے کہ وہ واقعہ دیت کو غزوہ بنی نضیر کا باعث قرار دینے پر مطمئن نہیں ہیں۔ان کے نزدیک اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ بنو نصیر نے معاہدہ شکنی کی۔دشمن کو مدینہ پر حملہ کرنے کی نہ صرف انگیخت کی بلکہ اس میں ان کی مدد کی لے اور یہی وہ امر واقعہ ہے جس کا ذکر سورۃ البقرۃ میں الفاظ تَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (البقرة: ۸۶) اور سورۃ الحشر میں الفاظ ذلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُوا اللهَ وَرَسُولَهُ (الحشر : ۵) سے کیا گیا ہے۔باوجود اس واشگاف حقیقت کے پروفیسر اسرائیل اور بعض دیگر مستشرقین کا خیال ہے کہ صحابہ کرام کو قبائل یہود کے اموال کی طمع تھی۔اگر طمع ہوتی تو کیا وہ اموال یہود کے پاس محفوظ رہ سکتے تھے، حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ سرداران یہود کی تجویز کے مطابق ہی یہود کو اجازت دی گئی اور وہ جس قدر سامان بھی بار برداری کے ذریعہ لے جاسکتے تھے ، لے گئے۔حتی کہ چوکھٹ اور چھت تک بھی۔ابن ہشام کے الفاظ اس بارے میں یہ ہیں: سَأَلُوا رَسُولَ اللہ الله أَن يُجْلِيَهُمْ وَيَكُفَ عَنْ دِمَا عِهِمْ عَلَى أَنَّ لَهُمْ مَا حَمَلَتِ الإِبلُ مِنْ أَمْوَالِهِمْ إِلَّا الْخَلْقَةً فَفَعَلَ۔فَاحْتَمَلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ مَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ الْإِبِلُ فَكَانَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَهْدِمُ بَيْتَهُ عَن يُجَافِ بَابِهِ، فَيَضَعُهُ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ فَيَنْطَلِقُ بِهِ۔فَخَرَجُوا إِلَى خَيْبَرَ، وَمِنْهُمْ مَنْ سَارَ إِلَى الشَّامِ۔فَكَانَ أَشَرَافُهُمْ مَنْ سَارَ مِنْهُمْ إِلَى خَيْبَرَ سَلَّامُ بْنُ أَبِي الْحَقِيقِ وكنانة ابْن الرَّبِيعِ بْنِ أَبِي الْحَقِيقِ وَحُيَى بْنُ أَخْطَبَ ، فَلَمَّا نَزَلُوهَا دَانَ لَهُمْ أَهْلُهَا - " تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب السادس هجرة الرسول إلى يثرب، صفحه ۱۳۲ تا ۱۳۶) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "تم گناہ اور فلم کے ذریعہ ان کے خلاف ایک دو کی پشت پناہی کرتے ہو۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "یہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی شدید مخالفت کی۔“ (السيرة النبوية لابن هشام ، أمر إجلاء بني النضير ، جزء ۳ صفحه ۱۴۵،۱۴۴) ترجمہ: انہوں نے رسول اللہ صلی العلیم سے التجا کی کہ آپ اُن کے خون معاف کر دیں اور انہیں اس شرط کے ساتھ جلا وطن کر دیں کہ اسلحے کے سوا جو اموال وہ اپنے اونٹوں پر لاد سکتے ہیں وہ اُن کے ہونگے۔آپ نے اسے قبول کر لیا تو انہوں نے اپنا وہ تمام مال اسباب جو اونٹ اُٹھا سکتے تھے، ساتھ لے لیا۔حتی کہ اُن میں ایسے بھی آدمی تھے جنہوں نے اپنے گھروں کو گرا کر (چھت کی لکڑیاں اور ) اپنے دروازوں کی چوکھٹیں بھی نکال لیں اور انہیں اپنے اونٹوں پر رکھ کر ان میں سے بعض خیبر کی طرف اور بعض شام کی طرف چلے گئے۔جو خیبر کی طرف گئے تھے ان کے رؤساء میں سے سلام بن ابی حقیق، کنانہ بن ربیع بن ابی حقیق اور حیی بن اخطب تھے۔جب یہ خیبر پہنچے تو خیبر والوں نے انہیں شرف سرداری سے نوازا۔