صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 49 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 49

صحیح البخاری جلد ۹ ۴۹ ۶۴ - کتاب المغازی میں تمام المناک واقعات سے سبقت لے گیا ہے۔اس سے قبل ارض فلسطین میں عربوں کے ساتھ جو خون آشام ڈرامہ کھیلا گیا ہے، اس کے کھیلنے والے بر طانیہ وامریکہ ہی تھے۔پناہ گزین“ جو مہذب دنیا کی اصطلاح ہے اس کا نظارہ حال ہی میں ہانگ کانگ کی گلی کوچوں، وادی اُردن، فلسطین و شام اور لبنان کی سرحدوں، دن بن فو (Dien Bien Phu)، الجزائر، ہنگری، تہت، ممالک شیوعیہ اور سرخ چین کے میدان ہائے محشر میں قابل دید تھا۔صرف گزشتہ بیس سال کی مدت میں چار کروڑ (۴،۰۰،۰۰،۰۰۰) انسان خانہ بدوش بنائے گئے۔انتہائی خستہ حالی اور اخلاق سوزی کا وہ تختہ مشق ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے زیر عنوان Refugees (مہاجرین) میگزین Time مورخہ ۴ جنوری ۱۹۶۰ ء۔یہ ہفتہ وار خبروں کا کثیر الاشاعت رسالہ ہے جو واشنگٹن امریکہ سے شائع ہوتا ہے) پروفیسر اسرائیل نے لکھا ہے کہ بنو قینقاع ایک چھوٹا سا قبیلہ تھا تا وقتیکہ اس کے حلیفوں کی امداد کا اسے پختہ یقین نہ دلایا گیا ہوتا۔اس کے متعلق تصور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ صحابہ سے لڑنے کی جرات کرتا۔حالات کا صحیح اندازہ کرنا اس کا فرض تھا اور یہ قبیلہ اپنی مصلحت بہتر سمجھتا تھا۔اگر پروفیسر مذکور کا یہ قیاس صحیح مان بھی لیا جائے تو اس سے زیادہ سے زیادہ یہ بات ثابت ہوگی کہ قبیلے کی نیت درست نہ تھی۔جب اسے باہر کی مدد کا یقین ہوا تو لڑنے پر آمادہ ہو گیا۔بہر حال ہمیں امر واقعہ سے تعلق ہے نہ کہ قیاسی باتوں سے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنو نضیر کو بھی تجدید معاہدہ کی دعوت دی گئی تھی اور وہ غزوہ اُحد تک مدینہ میں امن سے رہے۔لیکن جب انہوں نے نہایت نازک وقت میں غداری سے کام لیا اور بیرونی دشمن سے مل گئے اور لڑنے کے لئے تیار ہو گئے تو وہ مؤاخذہ کے تحت آگئے۔پروفیسر اسرائیل تاریخ یعقوبی " کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے تعلقات بنو نضیر کے ساتھ غزوہ اُحد سے قبل نہایت خوشگوار تھے اور یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ آپ نے اپنے حلفاء سے ایسے وقت میں تعلقات بگاڑے ہوں جبکہ آپ کو ان کی امداد کی شدید ضرورت تھی۔ان کی رائے کا رجحان یعقوبی مورخ کے اس بیان کی طرف ہے کہ کعب کے قتل کا واقعہ غزوہ اُحد کے بعد ہوا تھا نہ کہ اس سے قبل۔یہی رائے علامہ لیز نسکی (Leszynsky) مستشرق کی ہے کہ غزوہ اُحد کے دوران آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلقات میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے۔کیونکہ بنو نضیر نے اس میں آپ کی کوئی مدد نہیں کی۔بلکہ مدینہ پر حملہ کرنے والے خود اُن کے سردار کعب بن اشرف وغیرہ ہی تھے اور کعب کا قتل در حقیقت تعلقات بگڑنے پر ہی ہوا تھا۔سے تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب السادس هجرة الرسول إلى يثرب، صفحه ۱۲۹، ۱۳۰) (تاريخ اليعقوبي، وقعة بني النضير ، جزء ۲ صفحه (۴۹) تاريخ اليهود فى بلاد العرب، الباب السادس هجرة الرسول إلى يثرب، صفحه ۱۳۳ ، ۱۳۴)