صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 48 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 48

صحیح البخاری جلد ۹ ۴۸ ۶۴ - کتاب المغازی معاہدات توڑ دئے، حدود امن کی نگہداشت نہ رکھی اور شر انگیزی کے مرتکب ہوئے جو آخر خانہ جنگی اور ان کے اخراج پر منتج ہوئی۔ان کا بڑا سنگین جرم تو یہی تھا، نہ یہ کہ انہوں نے اظہارِ خیال کیا کہ اسلامی عقیدہ توحید سے قریش کا مشرکانہ عقیدہ بہتر ہے۔جیسے کہ پروفیسر اسرائیل کا خیال ہے کہ محض اس اظہارِ خیال پر ان سے سختی برتی گئی۔اسلام تو اختلافی عقائد کے اظہار سے قطعا نہیں روکتا بلکہ اس کی کھلی آزادی دیتا ہے اور اس نے عقیدہ کے اختلاف یا کسی خیال کے اظہار پر کسی قوم کو ہرگز واجب القتل یا قابل اخراج اور مدنی حقوق سے محروم قرار نہیں دیا۔بلکہ اس نے ایسے فعل کو ظلم گردانا ہے اور اس تعصب کے خلاف برسوں جہاد کر کے مذہبی آزادی بحال کر کے اس کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔اسلام نے کسی فرد یا قوم کو قطعا حقوق سے محروم نہیں رکھا کہ وہ اختلاف رائے پر اختلاف کرنے والے سے مؤاخذہ جائز سمجھتا ہو۔اگر کوئی شخص دیانت داری سے سمجھتا ہو کہ وہ فلاں عقیدہ یا خیال کے لحاظ سے اچھا ہے تو وہ اپنی اس رائے میں صرف اللہ تعالیٰ کے نزدیک صحت و سقم کے لئے جوابدہ ہے۔پروفیسر اسرائیل تورات کی تعلیم کے اعتبار سے مدینہ اور میٹر ب کے قبائل یہود کو مشرکین کے ساتھ ہمنوائی پر جو قابل ملامت سمجھے ہیں، ان کی یہ رائے تو درست ہے مگر یہ قطعاً درست نہیں کہ یہود کی اس غلطی کی وجہ سے ان کے خلاف غیظ و غضب کا اظہار کیا گیا اور ان کی جلاوطنی عمل میں آئی۔بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ بنو قینقاع کی بڑھتی ہوئی فتنہ پردازی و غیر منقطع شر انگیزی تھی۔جس نے نہ صرف مدینہ کا داخلی امن مضطرب کر رکھا تھا بلکہ بیرونی دشمنوں کے ساتھ ان کی ساز باز نے اسلام اور مسلم جماعت کی ہستی ہی معرض خطر میں ڈال دی تھی۔آئے دن وہ ایک دوسرے کو شرارت پر اکساتے رہتے تھے۔چنانچہ غزوہ اُحد انہی کی انگیخت کا نتیجہ تھا۔یہی فتنہ انگیزی ان کا سب سے بڑا محل امن جرم تھا۔جس پر ان سے گرفت ہوئی۔نہ اظہار عقیدہ، نہ اظہارِ خیال۔اور ہر قبیلہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قبل مؤاخذہ اصلاح حال کا موقع دیا جاتا تھا اور بنو قینقاع کو بھی موقع دیا گیا۔اور انہوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔بلکہ آنحضرت صلی اللہ اللہ علیہ وسلم کو سختی سے جواب دیا۔بھلا دنیا میں کونسی حکومت ہے جو اس قسم کی شر انگیزی، بیرونی دشمن کے ساتھ ریشہ دوانی، موقع اصلاح دینے پر ترش کلامی اور بغاوت و تمرد کو برداشت کرتی ہے۔آج ہمارے زمانہ میں تمدن و تہذیب کا دعویٰ کرنے والی حکومتوں کی طرف سے جو جلا وطنیاں اور ہجرتیں عمل میں لائی گئی ہیں، وہ تاریخ عالم کا ایک روح فرسا اور نہایت ہی مکروہ سانحہ ہے جس کی مثال نہیں۔یہ شارح صحیح بخاری ہندوستان کی تقسیم کے وقت تازہ المیہ ہجرت اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہے، جو رہتی دنیا تک آنسو رُلانے والی داستان ہے۔یہ المیہ وحشت و بربریت السيرة النبوية لابن هشام ، أمر بنی قینقاع، جزء۳ صفحه ۹) (سبل الهدى والرشاد، أبواب المغازي، الباب الأول في الإذن بالقتال، جزء ۲ صفحه ۶) (سبل الهدى والرشاد، أبواب المغازی، الباب الثاني عشر في غزوة بنی قینقاع، جزء۴ صفحه (۱۷۹)