صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 47 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 47

صحیح البخاری جلد ۹ محرم ط ۴۷ ۶۴ - کتاب المغازی عَلَيْكُمُ اخْرَاجُهُمْ (البقرۃ:۸۶،۸۵) نقل کر کے ان سے یہ تو استدلال کر لیا ہے کہ بنو قینقاع کے ساتھ ساتھ بنو نضیر اور بنو قریظہ کی شدید دیرینہ عداوت تھی۔جنہوں نے ان کو یر بی بستیاں چھوڑنے اور مدینہ کے ایک محلہ میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا تھا۔لیکن پروفیسر مذکور نے ان آیات سے یہ استدلال کرنا نہیں چاہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی باہمی خونریزی اور مدینہ سے نکلنا قطعا پسند نہیں تھا۔بحالیکہ مذکورہ بالا آیت بینہ سے یہ ایک واضح استدلال ہے۔کیونکہ ان میں یہود کو ملزم قرار دیا گیا ہے کہ تمہارے لئے خانہ جنگی وغیرہ مناسب نہیں۔کیونکہ مدینہ میں آنے پر سب سے پہلے جو کام آپ نے کیا، وہ اہالیانِ مدینہ کے درمیان معاہدہ صلح و آشتی ضبط تحریر میں لانے کا کام کیا تھا۔تعجب ہے کہ پروفیسر مذکور سے یہ واضح استدلال تو نظر انداز ہو گیا اور اس کے بالکل ہی خلاف انہوں نے یہ لکھ دیا ہے کہ چونکہ بنو قینقاع مدینہ کے ایک محلہ میں رہتے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ مدینہ میں انصار کے محلہ جات مشرکین اور ان تمام لوگوں سے جو آپ کے دین کے خلاف تھے پاک وصاف کر دیے جائیں اور بنو قینقاع تعداد میں تھوڑے تھے اور ان سے جنگ اور ان کی بیخ کنی آسان تھی اس لئے ان پر چڑھائی کر دی۔اس ضمن میں پروفیسر موصوف کے الفاظ یہ ہیں : فَأَرَادَ النَّبِيُّ أَن يُطْهَّرَ الْمَدِينَةَ وَأَحْيَاءَ الْأَنْصَارِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَمِنْ جَمِيعٍ مَّنْ يُخَالِفُونَ دِينَهُ۔۔۔ثُمَّ كَانَ عَدَدُ بَنِي قَيْنُقَاعَ غَيْرَ كَثِيرٍ فَكَانَ مِنَ السَّهْلِ مَقَاتَلَتَهُمْ وَاسْتِنْصَالَ شَأْفَتَهُمْ - - مذکورہ بالا آیت اور میثاق مدینہ کی مستند دستاویز موجود ہوتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش سے متعلق پروفیسر مذکور کا قیاس حقیقت سے کتنا دور اور اہل نظر کے لئے کس قدر قابل افسوس ہے۔اس امر کا اندازہ کرنا قارئین شرح بخاری پر چھوڑا جاتا ہے۔اگر صرف اس استدلال پر اکتفا کیا جاتا کہ یہودی قبائل ایک دوسرے کے دشمن تھے۔فتنہ پردازی ان کا شیوہ تھا۔انہوں نے امن پسندوں کی راہ چھوڑ کر شر انگیزی اختیار کی۔تو یہ قیاس عین عدل و انصاف کے مطابق ہوتا۔بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ شہری امن اور خود یہودیوں کی اپنی سلامتی کا تقاضا تھا کہ وہ مدینہ سے دوسرے مقامات میں چلے گئے۔جیسا کہ آج کل بھی متمدن و مہذب دنیا میں یہی راہ اختیار کی جاتی ہے۔اگر یہ استدلال کیا جاتا تو واقعات کے بالکل مطابق تھا اور سورۃ البقرۃ اور سورۃ الحشر میں جلا وطنی یہو دیانِ مدینہ کی یہی وجہ بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : اور جب ہم نے تمہارا میثاق لیا کہ تم (آپس میں) اپنا خون نہیں بہاؤ گے اور اپنے ہی لوگوں کو اپنی آبادیوں سے نہیں نکالو گے اس پر تم نے اقرار کیا اور تم اس کے گواہ تھے۔اس کے باوجود تم وہ ہو کہ اپنے ہی لوگوں کو قتل کرتے ہو اور تم اپنے میں سے ایک فریق کو ان کی بستیوں سے نکالتے ہو۔تم گناہ اور ظلم کے ذریعہ ان کے خلاف ایک دوسرے کی پشت پناہی کرتے ہو اور اگر وہ قید کی ہو کر تمہارے پاس آئیں تو فدیہ لے کر اُن کو چھوڑ دیتے ہو۔جبکہ اُن کا نکالنا ہی تم پر حرام تھا۔“ (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب السادس هجرة الرسول إلى يثرب، صفحه ۱۲۸)