صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 46
صحیح البخاری جلد ۹ م ۶۴ - کتاب المغازی کے اعتبار سے مجروح ہے۔زیادہ سے زیادہ اس سے مراد جائیداد غیر منقولہ کی تقسیم ہے جو انہی کے حلفاء بنو خزرج میں بانٹی گئی اور اس بارہ میں ابن ہشام کی روایت زیادہ صحیح ہے جو پروفیسر اسرائیل نے بھی نقل کی ہے کہ یہودیوں کے حلیف عبد اللہ بن ابی وغیرہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کی کہ اُن کے حلیف یہودیوں سے نیک سلوک فرمایا جائے۔چنانچہ آپ نے اس کی سفارش قبول فرمائی اور ان کا معاملہ اس کے سپر د کر دیا۔پوری عبارت یہ ہے: فَحَاصَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِهِ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَةٍ بنِ سَلُولَ حِينَ أَمْكَنَهُ اللهُ مِنْهُمْ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَحْسِنُ في مَوَالِي، وَكَانُوا خُلَفَاءَ الْخَزْرَج، قَالَ: فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ أَحْسِنُ فِي مَوَالِي، قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنْهُ۔فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي جَيْبِ دِرْعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۔۔فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْسِلْنِي، وَغَضِبٌ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَوْا لِوَجْهِهِ ظُلَلًا، ثُمَّ قَالَ: وَيْحَكَ! أَرْسِلْنِي، قَالَ: لَا وَاللهِ لَا أُرْسِلُكَ حَتَّى تُحْسِنَ فِي مَوَالِي، أَربعٍ مِائَةِ حَاسِرٍ وَثَلَاثِ مِائَةٍ دَارِعٍ قَدُ مَنْعُونِي مِنَ الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، تَحْصُدُهُمْ فِي غَدَاةٍ وَاحِدَةٍ، إلي وَاللهِ امْرُؤٌ أَخْشَى الدَّوَائِرَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُمْ لَكَ - یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قینقاع کا محاصرہ کیا، یہاں تک کہ وہ آپ کے فیصلہ کو قبول کرنے) پر (اپنے قلعوں سے ) اتر آئے۔جب اللہ نے انہیں آپ کے قابو میں کر دیا تو ان کے حلیف عبد اللہ بن ابی بن سلول نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے باصرار و الحاج سفارش کی۔کہا کہ یہ میرے حلیف ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ میرا قبیلہ اس میں اُلجھ کر سلسلہ کشت و خون کو طول نہ دے دے۔ان سے احسان فرمائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سفارش قبول فرمائی اور بنو قینقاع اس کے سپرد کر دیئے۔ابن سعد نے بھی جو واقدی کے شاگردوں میں سے ایک محتاط شاگرد ہیں، بنو قینقاع کے سیم و زر لے لئے جانے کا ذکر نہیں کیا۔بلکہ انہوں نے جس شے کے تقسیم کرنے کی تفصیل بیان کی ہے وہ سیم و زر و مال و دولت نہیں بلکہ اسلحے ہیں۔جن میں سے تین کمانیں، دو زر ہیں، تین تلواریں اور تین نیزے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آئے تھے۔پروفیسر اسرائیل کی یہ فروگزاشت یا تجاہل عارفانہ قابل تعجب ہے اور اس سے بھی بڑھ کر قابل تعجب یہ امر ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب کے صفحہ ۱۲۹ پر سورہ بقرہ کی آیات وَإِذْ اَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُونَ دِمَاءَ كُمْ وَلَا تُخْرِجُونَ أَنْفُسَكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُهُ وَ ما تَشْهَدُ : أَنهم هَؤُلاء تَقْتُلُونَ أَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُونَ فَرِيقًا مِنْكُمْ مِن دِيَارِهِمْ تَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَ إِنْ يَأْتُوكُمْ أَسْرَى تُفَدُوهُمْ وَهُوَ السيرة النبوية لابن هشام ، أمر بنی قینقاع، جزء ۳ صفحه ۱۰) (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب السادس هجرة الرسول إلى يثرب، صفحه ۱۳۰) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوہ بنی قینقاع، جزء ۲ صفحہ ۲۷)