صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 45 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 45

صحیح البخاری جلد ۹ ۴۵ ۶۴ - کتاب المغازی الْمُغِيرِينَ عَنْ أَطَامِهِمْ کہ خیبر کے یہودی جتھے تمام گروہوں سے بلحاظ جنگی طاقت و مال و دولت اور اسلحہ کے زیادہ طاقتور تھے۔پہاڑیوں کی چوٹیوں پر اُن کے خیبری قلعے ناقابل تسخیر تھے۔جن میں آزمودہ کار سپاہی رہتے۔وہ فنون حربیہ سے واقف تھے اور ان کے پاس اسلحہ بکثرت اور استعمال اسلحہ میں ماہر ومشاق۔آلات ہرم کے ذریعہ سے اپنے دشمنوں کو ہمیشہ اپنے قلعوں سے پسپا کر دیتے تھے۔دراصل اسی غیر معمولی قوت و طاقت کے غرور میں یہود خیبر نے بنو قریظہ وغیرہ کا انتقام لینے کا عزم صمیم کیا اور قریش کے ہتھیار ڈال دینے کے باوجود وہ جنگ جاری رکھنے پر مصر رہے اور انہیں اپنے ہمسایہ حلیف قبائل غطفان و فزارہ پر پورا پورا اعتماد تھا کہ جس طرح انہوں نے غزوہ احزاب میں ان کی آواز پر لبیک کہا تھا۔اس نئے حملے میں بھی وہ ان کا ساتھ دیں گے اور یہ یہود اپنے اسی غرور اور جذبہ انتقام کے جوش میں عقل و بصیرت کھو بیٹھے اور نہیں جانتے تھے کہ مشیت الہی و تقدیر آسمانی ان کے سنگین جرم کی پاداش کا کیا انتظام کر رہی ہے۔سورۃ البقرۃ میں ان کے جرموں کا بالتفصیل ذکر کر کے انہیں توجہ دلائی گئی ہے کہ تم اہل کتاب ہو تمہیں مناسب نہیں کہ ظلم کا ساتھ دو۔(البقرۃ:۸۶،۸۵) پروفیسر اسرائیل رقم طراز ہیں اور بعض دوسرے مستشرقین نے بھی ان کی تائید کی ہے: وَغَنِيٌّ عَنِ الْبَيَانِ أَنَّ بَنِي فَيُنْقَاعَ كَانُوا أَغْنَى طَوَائِفِ الْيَهُودِ فِي مَدِينَةِ يَثْرِبَ فَكَانَتْ يُوثُهُمْ تَحْتَوى عَلَى الْأَمْوَالِ الطَّائِلَةِ وَالحَيُّ الْكَثِيرَةِ مِنَ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ وَكَانَ الْعَرَبُ يَطْمَعُونَ فِي كُل ذلك یعنی یہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ بنو قینقاع یثرب کے تمام یہودی قبائل سے زیادہ دولت مند تھے۔ان کے گھروں میں مال و دولت بے شمار اور سونے چاندی کے زیورات کثرت سے تھے اور عربوں کو اس مال و دولت اور سیم وزر کا لالچ تھا۔لیکن یہ بالید است باطل ہے۔اگر اس میں ذراسی صحت ہوتی تو بنو قینقاع کا مال و متاع لوٹ لینا ضروری تھا۔بحالیکہ ان کے مال و دولت قطعاً نہیں لوٹے گئے۔بلکہ جتنا سامان بھی وہ وسائل نقل و حمل کے ذریعہ سے لے جاسکتے تھے انہیں لے جانے کی اجازت دی گئی اور وہ اپنے مال بالفعل لے گئے۔پروفیسر موصوف نے اپنے مذکورہ بالا قیاس کی تائید میں واقدی کی روایت کا حوالہ دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قینقاع کے اموال و اسلحہ جمع کرنے کا ارشاد فرمایا۔پھر پانچواں حصہ محفوظ کر کے باقی انصار میں تقسیم کر دیا گیا اور انہیں تین دن کی مہلت دی گئی اور و وادی قری میں چلے گئے۔جہاں اُن کے یہودی بھائیوں نے بڑے اہتمام سے ان کا استقبال کیا اور فراخ دلی سے اپنے پاس ٹھہرایا اور پھر وہاں سے آخر وہ (آز زعات) علاقہ شام کی طرف منتقل ہو گئے۔کے واقدی کی یہ روایت پایہ صحت (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب الثامن غزوة خيبر، صفحه ۱۶۲، ۱۶۴) تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب السادس هجرة الرسول إلى يثرب، صفحه ۱۲۸) (تاريخ اليهود في بلاد العرب الباب السادس هجرة الرسول إلى يثرب، صفحه ١٣٠) وہ