صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 44 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 44

صحیح البخاری جلد ۹ کم نوم ۶۴ - کتاب المغازی خرابیوں پر اُن سے کوئی گرفت نہ ہو گی جو چاہیں اُن سے روا رکھیں۔(آل عمران: ۷۶) معاہدے توڑے جائیں، خیانت کی جائے، ان کے مال غصب کئے جائیں، ان کا ننگ و ناموس خطرے میں ڈال دیا جائے اور ان کی بیخ کنی کے لئے حملے پر حملے کئے جائیں، یہ سب کچھ جائز ہے اور اگر یہودیوں کے خلاف تورات کا فیصلہ نافذ ہو اور وہ اپنی شرارتوں کی پاداش میں قتل کئے جائیں تو یہ نا جائز ہے اور ان کے حلیف خائن۔پروفیسر ولفنسون بحوالہ ابن ہشام لکھتے ہیں: وَلَا شَكَ اَنَّ الْيَهُودَ لَمْ يَكُونُوا يَنْظُرُونَ إِلَى هَذِهِ الْخِيَانَةِ مِنْ حُلَفَاءِ هِمْ بَنِي الْأَوْسِ وَلَا إِلَى غَدْرِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بِهِمْ وَلَمْ يُنْجِهِمْ كَمَا فَخَلَى عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ أَي حُلَفَاءَهُ مِنْ بَنِي فَيُنقاع۔لے یعنی اس میں شک نہیں کہ یہود (بنی قریظہ) کو امید نہیں تھی کہ ان کے حلیف بنی اوس ان سے خیانت اور سعد بن معاذ اُن سے غداری کریں گے اور انہیں سزا سے نجات نہیں دلائیں گے جس طرح کہ عبد اللہ بن اُبی نے اپنے حلیفوں (بنو قینقاع ) کو دلائی۔پروفیسر اسرائیل ایک فریق یہود کو انتقام کا طبعی حق دیتے ہیں اور ان کی طرف سے مہاجرین مدینہ کے خلاف فوج کشی کی تیاری قابل ملامت نہیں سمجھتے۔ایک فریق کا فعل تو اُن کی نظر میں طبعی جذبہ انتقام ہے جو تمام قوموں کو تسلیم ہے اور دوسرے فریق یعنی بنی اوس کا انتقامی فعل جو علاوہ طبعی انتظام ہونے کے شریعت تورات کے مطابق ہے خیانت و غداری کبھی جائے۔تِلْكَ إِذَا قِسْمَةٌ ضِيزى (النجم : ۲۳) کے اس تفریق کی وجہ سوائے اس کے کیا ہو سکتی ہے کہ شاید شعب الله المختار کا پیدائشی حق ہو کہ عدل و انصاف کے الگ معیار سے اس کے حقوق کا فیصلہ کیا جائے۔عہد نبوی کے یہودیوں کا فی الحقیقت یہی نظریہ عدل و انصاف تھا۔ذُلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْأَمِينَ سَبِيلٌ : (آل عمران: ۷۶) یعنی امیوں کا حق پامال کرنے میں ہم سے کوئی مؤاخذہ نہ ہو گا۔خداوند یہوداہ کے محبوب ہونے کا انہیں ناز تھا۔نَحْنُ ابْنَةُ اللهِ وَاحِباؤُةُ (المائدة: 19) اور اپنی دولت کا زعم نَحْنُ أَغْنِيَاءُ (آل عمران: ۱۸۲) پروفیسر اسرائیل بحوالہ تاریخ الخمیس لکھتے ہیں: كَانَتْ مُجُمُوع اليَهُوْد فِي خَيْبَرَ مِنْ أَقْوَى الطَّوَائِفِ بَأْسًا وَأَوْفَرِهَا مَالًا وَسِلَاحًا۔۔۔وَكَانَتْ حُصُوبٌ خَيْبَرَ مَنِيْعَةً عَلَى رُؤُوسِ الْجِبَالِ وَكَانَ رِجَالُهَا مُدَرِّبِينَ قَدْ مَارَسُوْا الْقِتَالَ وَالنَّصَالَ وَكَانُوا أَصْحَابَ سِلَاحِ كَثِيرٍ وَاسْتَعْمَلُوا آلَاتِ الْهَدُو فِي رِدْ عَادِيَةِ (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب السابع غزوة بني قريظة، صفحہ ۱۴۹) ترجمه حضرت خليفة الميسم الرابع: تب تو یہ ایک بہت ناقص تقسیم ٹھہری“ ترجمه حضرت خلیفة الميسم الرابع: ”ہم اللہ کی اولاد ہیں اور اس کے محبوب ہیں۔“ ترجمه حضرت خليفة الميسح الرابع: ”ہم دولت مند ہیں۔“