صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 43
صحیح البخاری جلد ۹ b م ۶۴ - كتاب المغازي بِاسْمِ الْآبَاءِ الْأَقْدَمِينَ وَالَّذِينَ نُكِبُوا بِنَكَبَاتٍ لَا تُحْصَى مِنْ تَقْتِيْلٍ وَاضْطِهَادٍ بِسَبَبٍ إِيْمَانِهِمْ بِالهِ وَاحِدٍ فِي عُصُورٍ شَتَّى مِنَ الْأَدْوَارِ التَّارِيخِيَّةِ كَانَ مِنْ وَاجِبِهِمْ أَنْ يُضَحُوا بِحِيَاتِهِمْ وَكُلَّ عَزِيزٍ لَدَيْهِمْ فِي سَبِيْلِ أَنْ يَخْذُلُوا الْمُشْرِكِينَ اور لکھا لکھ ہے کہ مذکورہ بالا فاش غلطی کے علاوہ ان کی یہ غلطی بھی تھی کہ پنجاریوں کا ساتھ دے کر احکام تورات کی خلاف ورزی کی کیونکہ وہ بت پرستوں سے نفرت اور ان سے علیحدگی کی تاکید کرتی ہے۔ وہ در حقیقت اپنی جانوں سے ہی جنگ کر رہے تھے۔ قرآن مجید نے بھی انہیں اس بات میں ملزم گردانا ہے۔ پروفیسر مذکور کے الفاظ یہ ہیں : هذَا فَضْلًا عَنْ أَنَّهُمْ بِالْتِجَائِهِمْ إِلَى عَبَدَةِ الْأَصْنَامِ إِنَّمَا كَانُوا يُحَارِبُونَ أَنْفُسَهُمْ بِأَنْفُسِهِمْ وَيُنَاقِضُونَ تَعَالَيمَ التَّوْرَاةِ اللَّتِي تَوْصِيْهِمْ بِالنُّفُورِ مِنْ أَصْحَابِ الْأَصْنَاءِ وَالْوُقُوْفِ مَعَهُمْ مَوْقَفِ الْخُصُوْمَةِ وَقَدْ أَشَارَ الْقُرْآنُ إِلَى عَمَلِ النَّفَرِ مِنَ الْيَهُودِ وَتَحَزُّبِهِمْ مَعَ قُرَيْشٍ وَغَطَفَانَ عَلَى الْإِسْلَامِ بِقَوْلِهِ : أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَبِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَ يَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا (النساء : ۲۵۲ : سورۂ آل عمران میں یہودانِ مدینہ کے اس مسخ شدہ معنویات و عقیدہ کا ذکر ہے کہ اُمیوں کے مقابلے میں کی گئی ۔ (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب السابع غزوة بني قريظة، صفحه (۱۴۲) ترجمہ: بلاشبہ یہ درست ہے کہ اقوام کو جنگی تقاضوں کے پیش نظر دشمن پر غلبہ پانے کے لیے مکر و فریب اور دھوکہ دہی کی راہ سے چالیس کرنا جائز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان یہودیوں پر لازم تھا کہ وہ ایسی فحش غلطی میں مبتلا نہ ہوتے اور قریش کے سرداروں کے سامنے کھلم کھلا یہ بیان نہ دیتے کہ بتوں کی پوجا کرنا اسلام کی پیش کردہ توحید سے افضل ہے۔ کاش وہ اس ۔ اوہ اس معاملہ میں اُن (مشرکوں) کی خواہش کے مطابق جواب نہ دیتے۔ کیونکہ بنی اسرائیل تو وہ ہیں جنہوں نے اپنے آباء واجداد کے شایان شان صدیوں تک توحید کا جھنڈا دنیا میں بت پرست اقوام کے مقابل اُٹھائے رکھا ہے۔ اور انہوں نے تاریخ کے مختلف ادوار اور متعد د زمانوں میں ایک خدا کی عبادت کی وجہ سے بار ہا قتل و غارت اور ظلم و ستم برداشت کیا ہے۔ ان پر تو یہی لازم تھا کہ وہ مشرکین کی ذلت و رسوائی (چاہنے) کی راہ پر اپنی زندگیاں اور اپنی ہر عزیز ترین چیز قربان کر دیتے۔ (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب السابع غزوة بني قريظة، صفحہ ۱۴۲، ۱۴۳) ترجمہ : در حقیقت بتوں کے پجاریوں سے مدد حاصل کر کے وہ اپنے ہی نفسوں سے جنگ کر رہے تھے۔ اور تورات کی تعلیمات کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ (کیونکہ) وہ بت پرستوں سے نفرت کرنے اور ت کرنے اور اُن کے ساتھ دشمنوں کا سا معاملہ رکھنے کی تاکید کرتی ہے۔ قرآن کریم نے یہود کی اسی جتھہ بندی اور قریش و غطفان کے ساتھ مل کر اسلام کے خلاف فوج کشی کرنے کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے: ”کیا تو نے اُن کی طرف نظر نہیں دوڑائی جن کو کتاب میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا۔ وہ بتوں اور شیطان پر ایمان لاتے ہیں اور اُن لوگوں کے متعلق جنہوں نے انکار کیا، کہتے ہیں کہ یہ لوگ مسلک کے لحاظ سے ایمان لانے والوں سے زیادہ درست ہیں۔