صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 42 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 42

صحیح البخاری جلد ۹ ۴۲ ۶۴ - کتاب المغازی اور بچے خیبر میں لائے گئے۔مقتولین کا انتقام لینے اور یثرب کے کھوئے ہوئے اموال پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کی غرض سے یہود نے پھر مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری شروع کر دی اور پروفیسر اسرائیل کے نزدیک وہ طبعاً اس تیاری کا حق رکھتے تھے۔انہوں نے لکھا ہے: وہ اپنے وطن مالوف سے جہاں وہ صدیوں بالا دست رہے اور جن میں انہیں کثیر اموال اور وسیع اختیارات حاصل تھے جلا وطن کئے گئے اور مفلوک الحال ہو گئے۔ان کی سطوت و دولت کے بعد جو بھی ان کی تباہی و بربادی اور قابل رحم حالت کو مد نظر رکھے گا وہ ان کو اپنی جائیدادیں واپس لینے اور اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کی کوشش اور اپنے حلیفوں سے مدد حاصل کرنے میں قطعاً قابل ملامت نہیں سمجھے گا کیونکہ فطرت انسانی کا یہ طبعی تقاضا ہے۔بَلْ وَ عَمَلٌ مَشْرُوعٌ مَّقْبُولٌ لَدَى جَمِيعِ الْأُمَمِ - بلکہ جائز ہے اور تمام قوموں کے نزدیک مسلم ہے۔لے یہ درست ہے۔انتقام ایک طبعی تقاضا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ ظلم سے چھینے ہوئے اموال واپس لئے جاسکتے ہیں۔لیکن یہ کس طرح جائز ثابت ہو جائے گا کہ قابل رحم حالت میں یہودی کو تو یہ طبعی حق حاصل ہو جائے، لیکن مسلم مہاجرین کو یہ طبعی حق حاصل نہیں ہو سکتا؟ ایک نہایت قلیل جماعت کے ڈیڑھ سوچیدہ افراد اُحد و بئر معونہ وغیرہ میں بغیر کسی قصور کے دھوکہ و فریب سے قتل کر دیئے جائیں تو جائز اور ان کا جواب دیا جائے تو نا جائز و بے جا۔یہود کا اپنے عہد و پیمان کو توڑ کر قریش اور دیگر قبائل کے لشکروں کے ساتھ مدینہ کا محاصرہ کر لینا تو بجا و درست اور اس محاصرہ کے دوران بنو قریظہ کی مدینہ کے اندر رہ کر خلاف معاہدہ مدد کرنا بھی درست اور جب جنگ میں مغلوب ہو جانے کے بعد ان کے مجوزہ و مقبولہ ثالث کا شریعت تورات کے مطابق فیصلہ ہو۔مدینہ سے مع ساز و سامان چلے جانے کی رعایت مل جائے اور ان کے اکثر قیدی بھی انہیں دے دیئے جائیں۔مزید براں ان کے حلیف قریش و غیرہ بھی صلح کر لیں۔باوجود ان تمام باتوں کے پروفیسر اسرائیل کے نزدیک یہودانِ مدینہ و خیبر کو جو فتنہ پر فتنہ برپا کرتے رہے حق حاصل تھا کہ وہ ایسا ہی کرتے۔الْعَجَبُ ثُمَّ الْعَجَبُ۔پروفیسر موصوف یہودی قبائل کی مذکورہ تیاری کو قابل افسوس و ملامت نہیں سمجھتے۔لیکن انہیں یہ ضرور تسلیم کرنا پڑا ہے کہ ایک موحد قوم کا جو صدیوں سے توحید کی علمبر دار اور توحید کی خاطر مشرک اقوام کے ہاتھوں ظلم و ستم کا تختہ مشق رہی ہو، اس کا مشرکین قریش سے ہمنوا ہونا اور ان کے دین کو اسلام سے افضل قرار دینا اور ان کے ساتھ لڑائی میں شریک ہونا ضرور قابل ملامت ہے۔وہ لکھتے ہیں: نَعَمُ اِنَّ ضَرُورَاتِ الْحُرُوبِ أَبَاحَتْ لِلْأُمَمِ اسْتِعْمَالَ الْحَيَلِ وَالْاَ كَاذِيبِ وَالتَّوَسُلِ بِالْحَدَعِ وَالْأَصَالِيلِ لِلتَّخَلُّبِ عَلَى الْعَدُهِ وَلَكِنْ مَعَ هَذَا كَا مِنْ وَاجِبٍ هَؤُلَاءِ الْيَهُودِ أَلَّا يَتَوَزَطُوا فِي مِثْلِ هَذَا الْخَطَ الْفَاحِشِ وَأَلَّا يُصَرِّحُوْا أَمَامَ زُعَمَاءِ قُرَيْشٍ بِأَنَّ عِبَادَةَ الْأَصْنَامِ أَفْضَلُ مِنَ التَّوْحِيدِ الْإِسْلَامِي وَلَوْ أَنَّى بِهِمُ الْأَمْرِ إِلَى عَذْهِ إِجَابَةِ مَطْلَبِهِمْ لِأَنَّ بَنِي إِسْرَائِيْلَ الَّذِيْنَ كَانُوْا مُذَةَ قُرُوبٍ حَامِلِي رَأْيَةِ التَّوْحِيدِ فِي الْعَالَمِ بَيْنَ الْأُمَمِ الْوَثَنِيَّةِ۔(تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب السابع غزوة بني قريظة، صفحہ ۱۴۲)