صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 41 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 41

صحیح البخاری جلد ۹ ۴۱ ۶۴ - کتاب المغازی وقت وادی میثرب سے نکلنے پر راضی ہوا ہے جب اس کی غداری و فتنہ انگیزی اتنی واضح ہو گئی کہ خود اس کے ضمیر نے اسے معذور نہیں سمجھا اور نہ اس کے حلیف یا ہم مذہب قبیلے نے۔حالات مندرجہ بالا کی موجودگی میں یہ سمجھنے کی کوئی گنجائش نہیں کہ بنو نضیر وادی میثرب کو اپنا مستقل وطن نہیں سمجھتے تھے اور اپنے قبضے کو عارضی اور اپنے آپ کو کمزور خیال کرتے تھے بلکہ جب وہ میٹر ب سے نکلنے پر بالکل ہی مجبور ہو گئے تو بھی اس عزم راسخ کو دلوں میں لیتے ہوئے گئے کہ دوسری جگہ پہنچ کر مدینہ پر حملہ آور ہوں گے اور مسلمانوں سے اپنی کھوئی ہوئی جائیدادیں واپس لے کر اُن سے پورا انتقام لیں گے۔چنانچہ اپنے خیال کے مطابق انہوں نے خیبر وغیرہ پہنچ کر تیاری کی اور احزاب کے ذریعہ مدینہ کا محاصرہ کیا اور تقریباً ایک ماہ مشغول جنگ رہ کر ناکام و نامراد راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے۔وَرَدَّ اللهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خَيْرًا ۖ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللهُ قَوِيًّا عَزِيزَانَ وَانْزَلَ الَّذِينَ ظَاهِرُوهُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ مِنْ صَيَاصِيْهِمْ وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِيقًا تَقْتُلُونَ وَتَأْسِرُونَ فَرِيقًا وَ أَوْرَثَكُمْ أَرْضَهُمْ وَ دِيَارَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ وَأَرْضًا لَمْ تَطَفُوهَا وَ كَانَ الله عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا (الأحزاب: ۲۶ تا ۲۸) ترجمہ: اور (حقیقت یہ ہے کہ) اللہ (تعالی) نے کفار کو ان کے سب غصہ سمیت (مدینہ سے) واپس لوٹا دیا اور کسی قسم کا فائدہ اُن کو نہیں پہنچا اور اللہ تعالیٰ) نے مومنوں کی طرف سے خود لڑائی کی اور اللہ تعالیٰ) بڑا طاقتور اور غالب ہے اور اس (یعنی اللہ تعالیٰ نے ان اہل کتاب کو جنہوں نے ان (حملہ آور مشرکوں) کی مدد کی تھی، اپنے قلعوں سے اُتار دیا اور ان کے دلوں میں رعب داخل کر دیا۔یہاں تک کہ تم ان میں سے ایک حصہ کو قتل کرنے پر اور ایک حصہ کو قید کرنے پر قادر ہو گئے اور ان کی زمینوں اور ان کے گھروں اور ان کے مالوں کا تم کو وارث کر دیا نیز اس زمین کا بھی جس پر ابھی تمہارے قدم نہیں پڑے اور الله (تعالی) ہر ایک چیز پر قادر ہے۔غزوہ اُحد میں بھی یہودیوں کا ہاتھ تھا اور غزوہ احزاب میں بھی۔سابقہ ابواب میں دونوں جنگوں کا مفصل ذکر گزر چکا ہے اور غزوہ خیبر جو ابواب زیر شرح کا موضوع ہے اسی انتقامی سلسلہ کا ایک اہم حصہ ہے جو واضح طور پر بتاتا ہے کہ جب قریش نے دس سال کے لئے صلح کر کے ہتھیار ڈال دیئے تو یہود جی توڑ کر مقابلہ کے لئے ڈٹے رہے اور وادی یثرب میں اپنی کھوئی ہوئی بستیوں کی بازگشت سننے اور بنو قریظہ کے مقتولین کا انتقام لینے کی تیاریاں کرنے لگے۔وہ مادی وسائل حرب و ضرب اور مال و دولت اور اپنے جنگ آزماؤں کی کثرت کے اعتبار سے اپنے آپ کو نہایت مضبوط سمجھتے تھے اور واقعہ بھی یہی تھا۔پروفیسر اسرائیل ولفنسون نے اس مذکورۃ الصدر کتاب میں انہیں اپنی اس جدوجہد میں حق بجانب قرار دیا ہے کہ میثرب ان کا قدیم وطن تھا جہاں سے وہ نکالے گئے۔یہود خیبر اپنے ہم عقیدہ لوگوں کے قتل سے طبعاً متاثر تھے۔انہوں نے اسی جذبہ ہمدردی کی وجہ سے بنو قینقاع اور بنو نضیر کو یکے بعد دیگرے پناہ دی اور تورات کے حکم کی تعمیل میں بنو قریظہ کے اکثر قیدیوں کی آزادی فدیہ دے کر حاصل کی اور آزاد شدہ مرد، عورتیں