صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 40 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 40

صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی مؤخر الذکر یہودی پروفیسر نے ڈگری حاصل کرنے کی غرض سے اس موضوع پر عربی زبان میں مقالہ لکھا تھا اور وہ بعد تصحیح علامہ طلا حسین کتاب کی صورت میں شائع کیا گیا اور علامہ موصوف نے اس کی تعریف کی ہے۔یہ کتاب بڑی محنت سے تیار کی گئی ہے اور قابل قدر ہے۔لیکن بہت احتیاط سے اسے پڑھنے کی ضرورت ہے جیسا کہ ابن ہشام، طبری وغیرہ قدیم تالیفات کا مطالعہ بڑی احتیاط کا متقاضی ہے کہ اس میں زبان زد خلائق افسانے بھی درج ہیں اور مسلمان مؤرخین ابن خلدون اور ابو الفرج اصبہانی وغیرہ نے ایسے افسانوں کی عدم صحت کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔قدیم اسلامی مؤرخین نے ہر قسم کی رطب و یابس روایات جو اُن کے زمانہ میں شائع و متعارف تھیں جمع کر دیں ہیں اور بحث و تمحیص کا کام بعد میں آنے والے محققین نے کیا ہے جس کی تصدیق زمانہ حال کے اکتشاف سے ہو رہی ہے۔افسانوں کے پس پردہ بھی کوئی نہ کوئی حقیقت روپوش ہوتی ہے۔اگر روایات کی مبالغہ آمیزی کا نقاب اُٹھایا جائے تو اصل حقیقت کا پتہ چل جاتا ہے۔مسلم و غیر مسلم مصنفین و محققین کی تصنیفات میں سے قدرے مشترک جو خلاصہ اوپر نقل کیا گیا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ وادی میثرب میں آباد اسرائیلی قبائل بلاد عربیہ میں اسی طرح متوطن تھے جس طرح اسماعیلی قبائل قریش اوس و خزرج وغیرہ۔وہ ایک دوسرے کے حلیف اور ان کے باہمی تعلقات مستحکم تھے۔ان کی حالت پر دیسیوں کی سی نہ تھی کہ انہیں غاصب سمجھ کر بیک بینی و دو گوش یثرب و خیبر سے نکال دیا جاتا۔ان کے مستحکم تعلقات کا علم حرب فجار و بسوس و بعاث کی بار بار خانہ جنگیوں کے حالات سے بخوبی ہوتا ہے کہ یہودی قبائل نے اپنے اپنے حلیفوں کی مالی و جانی قربانی سے ہر طرح مدد کی اور وہ ایک دوسرے کی خاطر بڑی بہادری و جانفشانی سے لڑے اور اس کی پر واہ نہیں کی کہ مد مقابل صفوں میں ان کا ہم مذہب یہودی ہے یا غیر یہودی، جیسا کہ سمجھا گیا ہے۔اور وہ ہر لحاظ سے نہایت مضبوط اور طاقت ور تھے اور اپنے آپ کو عربی قبائل پر غیر معمولی تفوق دیتے تھے۔وہ نَحْنُ ابنوا الله وَاحِباؤُة (المائدة:١٩) وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ (آل عمران: ۱۸۲) کا دم بھرتے تھے اور اپنے آپ کو شاب اللہ المختار یقین کرتے تھے۔ان کی روایات شاندار اور ان کا ماضی و حال درخشاں تھا اور درآمد و بر آمد کی تجارت پر ان کا قبضہ۔ہمسایہ عربی قبائل ان کے اقتصادی دباؤ سے جھکے ہوئے تھے۔ان کے جابجا نہایت مضبوط قلعے تھے۔ان کے قلعوں کی تعمیر و تقسیم حربی اصولوں کے مطابق تھی۔خیبر کا قلعہ ناعم بطور فراش خانہ کام دیتا تھا۔جنگ کے وقت خوردنی اشیاء کے ذخائر اس میں محفوظ کر دیئے جاتے، قلعہ کتیبہ میں محفوظ سپاہ رکھی جاتی، نطاۃ و قموص میں لڑنے والی فوج رہتی۔بعض قلعے اسلحہ سازی کے لئے مخصوص تھے اور بعض میں عورتیں اور بچے اور ضعیف و ناتواں لوگ محفوظ کر کے ان کے کھانے پینے اور ان کی حفاظت کا انتظام کیا جاتا تھا۔لے یہی صورت ان کے میٹر بی قلعوں کی تھی اور یہی صورت خیبر و تیما و أذرعات کے قلعوں کی تھی۔بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ میں سے ہر قبیلہ اپنی اپنی باری پر اسی (تاريخ الخميس الموطن السابع فى وقائع السنة السابعة من الهجرة، غزوة خيبر، جزء ۲ صفحه ۴۵) (إمتاع الأسماع، فصل في ذكر من استعمله رسول اللہ ﷺ فی جیوشه عند عودته ، جزء ۹ صفحه ۲۳۲)