صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 39
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۹ ۶۴ - کتاب المغازی توڑے جن کی وجہ سے یہودی ظالم حکام اصحاب الاخدود (خندق والے) کے نام سے مشہور ہوئے۔ اے مفسرین کے نزدیک قرآن مجید کی سورۃ البروج کی ابتدائی آیات میں انہی حمیری ظالم حکام کا ذکر ہے جنہوں نے خندقیں کھدوا کر نجران کے عیسائیوں کو ان میں جلوا دیا تھا۔ کے اس وحشت و بربریت کے پیچھے جہاں مذہبی عداوت کا ا عداوت کام کر رہی تھی وہاں سیاسی و تجارتی رقابت بھی تھی جو حمیر و صنعاء وحضر موت کے درمیان عرصہ سے چلی آتی تھی۔ یہودیوں نے عیسائی تاجروں کو یمنی منڈیوں میں ذبح کیا اور وہ انہیں اپنے علاقوں میں گھنے نہیں دیتے تھے جس کی وجہ سے سلطنت روم و حبش نے حملہ کر کے حمیری سلطنت کو تباہ و برباد کر دیا۔ اسی حمیری سلطنت کے اثر و رسوخ سے قبائل عرب بنو نمیر، بنو کنانہ، بنو حارث بن کعب و بنو کندہ نے یہودی مذہب اختیار کر لیا تھا اور وادی مکہ ویثرب وغیرہ میں آباد ہو گئے تھے جیسا کہ رومی عیسائی سلطنت کے زیر اثر قبیلہ غسان عیسائی ہوا۔ غرض اسرائیلی مہاجرین ہی نے جزیرہ عرب کے جنوبی و شمالی علاقوں کی آباد کاری میں سبقت کی تھی اور یہ وہ امر واقعہ ہے جو اسلامی مورخین اور موجودہ زمانے کے محققین و مستشرقین ڈوزی (Dozy) گلیزر (Glazer) اور پلائی نس (Plinius) وغیرہ کو مسلم ہے ہے اور تازہ تحقیق سے بھی ثابت ہے کہ وہ اسرائیلی قبائل جنہوں نے فلسطین سے ساتویں اور گیارہویں صدی قبل مسیح ہجرت کی تھی، وہی وادی مکہ ، وادی یثرب اور وادی خیبر و تیما و غیرہ علاقوں میں آباد ہو گئے تھے۔ قبائل معان کا سیاسی مرکز قرنا، قبائل سبا کا ماربہ، مملکت تمنا کا باب المندب اور مملکت حضر موت کا میوہ۔ یہ وہ تاریخی حقائق ہیں جن کا ذکر مصری عالم محمد نعمان قاضی عدالت نے بھی اختصار سے اپنی تالیف ” ادیان العرب میں کیا ہے۔ ہے اور تدریسی نصاب کی کتابوں میں بھی تفصیل سے وارد ہوا۔ وارد ہوا ہے۔ " اور "تاریخ الیہود فی بلاد العرب تصنيف اسراء سرائیل ولفنسون ( ابو ذؤيب - استاذ اللغات السامیہ دارالعلوم دارالعلوم مصر مصر ) میں بھی بھی اس اس کا کا ذکر ہے۔ کے (السيرة النبوية لابن هشام ، ملك ذى نواس، جزء اول، صفحه ۴۵) ( السيرة النبوية لابن هشام، ذونواس يدعو أهل نجران الى اليهودية، جزء اول صفحه ۵۰) الكشاف للزمخشری، تفسير سورة البروج آیت ٤ ، جزء ۴ صفحه ۷۳۱) التفسير الكبير للرازی، تفسير سورة البروج آیت ٤ ، جزء ۳۱ صفحه ۱۱۰) (تاريخ العرب القديم وظهور الإسلام للصف الثاني، العرب وبلادهم ، صفحہ ۷ تا ۳۰) (تاريخ العرب والإسلام للصف الثاني الفصل الثالث دول اليمن وعلاقاتها الدولية، صفحه ۳۰،۲۹) (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب الأول اليهود في بلاد الحجاز، صفحه ۳ تا ۵) أديان العرب في الجاهلية، اليهودية، صفحه ۱۹۹، ۲۰۲) ۔ (تاريخ العرب القديم وظهور الإسلام للصف الثاني من المدارس المتوسطة، العرب وبلادهم ، صفحہ ۷ تا ۱۷) (تاريخ العرب والإسلام للصف الثانى الثانوى مطبوعة وزارة المعارف السورية، صفحه ۳۰،۲۹) (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب الأول اليهود في بلاد الحجاز، صفحه ۱ تا ۳۴)