صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 38 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 38

۳۸ صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی اس زمانے میں بھی بنو اسماعیل اور بنو اسرائیل کے تعلقات آپس میں سازگار تھے۔ابوالفرج اصبہانی نے الروض الانف“ میں لکھا ہے کہ حجاز میں پہلے عمالقہ حکمران تھے جو ظالم تھے جنہیں یہود نے مغلوب کیا اور وہ یثرب وغیرہ علاقوں میں آباد ہو گئے لے اور جب طیطا اس قیصر روم نے (20 عیسوی میں) فلسطین کو تاخت و تاراج کیا تو اس وقت بھی بنی اسرائیل نے ارض حجاز و شام کے درمیان واقع صحرا میں پناہ لی تھی۔کے یہ علاقے اس وقت غیر آباد تھے۔خانہ بدوش قبائل عرب خاص خاص موسموں میں سرسبز و شاداب علاقوں کے قریب خیمہ زن ہوتے اور عارضی فائدہ اُٹھانے کے بعد حسب عادت دوسری چراگاہوں کی طرف چلے جاتے تھے۔مہاجرین بنی اسرائیل ہی نے ان علاقوں کو آباد کیا تھا۔ارض فلسطین قدیم الایام سے شہد و دودھ کی زمین کے نام سے مشہور ہے۔(خروج باب ۹۸:۳) اور بنی اسرائیل زراعت پیشہ وصنعت کار تھے اور فن تعمیر میں ماہر۔ممکن ہے کہ مصر میں ایک لمبا عرصہ بود و باش رکھنے کی وجہ سے ہی انہیں تعمیر و استعمار (آباد کاری) سے دلچسپی پیدا ہوگئی ہو اور وہ فن تعمیر کے ماہر بن گئے۔مغرب و مشرق میں جہاں کہیں بھی وہ گئے ہیں، ذوق استعمار و صنعت کاری اپنے ساتھ لے گئے۔وادی میثرب کے نخلستان، باغات، قلعہ نما مکانات ( آطام) اور قلعہ جات طرز تعمیر اور شکل میں ویسے ہی ہیں جیسے کہ خیبر و تیما و از رعات وغیرہ ہیں اور وادی کشمیر میں بھی ان کا یہی حال رہا ہے۔چنانچہ آزادی کشمیر کی جدوجہد کے دوران مجھے اہالیان کشمیر کو نزدیک سے دیکھنے اور سمجھنے کا کئی سال موقع ملا ہے اور وادی کشمیر کے دیہات و قصبات میں جب بار بار مجھے جانا پڑا تو کشمیر کی قدیم عمارتیں اور ان کے نقش و نگار ، باغات اور ان کی چار دیواریاں اسلوب تعمیر میں مجھے ویسے ہی نظر آئیں جیسے میں نے فلسطین و شام میں دیکھی تھیں حتی کہ ان کی شکل و شباہت اور لباسوں اور پیراہنوں کی وضع قطع ان کے بعض مخصوص رہنے سہنے کے طور و طریقے بھی ان سے تھے۔مہاجرین بنی اسرائیل نے ہر جگہ ایک ہی قسم کے ذوق کا اظہار کیا جو صرف تقلید کا نتیجہ نہیں ہو سکتا بلکہ یہ مماثلت و یگانگت ذاتی ذوق کا ہی نتیجہ ہے جو ایک لمبے زمانے کی ممارست سے ان کی طبیعت ثانیہ بن گئی تھی۔یہ اسرائیلی قومیں صنعت و تجارت میں بھی ماہر رہی ہیں۔ارض فلسطین مدت سے عراق و عرب، شام، مصر اور ہند و چین کے درمیان واسطہ تجارت تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ کاروبار مرکز بیشرب و خیبر و تیاء کی طرف منتقل ہو چکا تھا بلکہ پانچویں صدی عیسوی میں جب یہودیوں کی معین و حمیر (یمن) میں ریاست و سلطنت تھی تو اس وقت بھی تجارتی کاروبار یہودیوں ہی کے ہاتھ میں تھا۔ذونواس بقول ابن ہشام حمیری سلطنت کا آخری بادشاہ تھا اور اس یہودی سلطنت نے نجران کے عیسائیوں پر بے پناہ ظلم 1 (الروض الأنف، كتاب رسول اللہ ﷺ فيما بينه وبين اليهود، جزء ۴ حاشیه صفحه ۲۹۰) كتاب الأغانى، أخبار أوس ونسب اليهود النازلين ،بیٹرب، جزء ۲۲ صفحه ۳۲۳، ۳۴۲) أديان العرب في الجاهلية، اليهودية، صفحه ۲۰۰، ۲۰۱)