صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 37
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۷ ۶۴ - کتاب المغازی انہوں نے ارض حجاز و عرب علاقوں وغیرہ کا رخ کیا اور اس کے مختلف اطراف میں آباد ہوتے رہے۔خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنے قتل ہونے کے خوف سے جب مصر کو چھوڑنا پڑا تو انہوں نے علاقہ مدیان میں ہی پناہ لی اور یہ عرب علاقہ ہی تھا۔مدین یا مدیان ساحل قلزم پر طور سیناء کے جنوبی علاقہ میں تھا۔وہاں جا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دامادی کا تعلق قائم کیا اور جب وہ اپنی قوم کو لے کر مصر سے نکلے تو عرب کے علاقوں میں ان کی قوم کو کم از کم چالیس سال رہنے کا موقع ملا اور اس کے بعد ارض کنعان فتح ہو کر ان کا موعودہ وطن بنا۔اسی طرح جب بخت نصر شاہ بابل نے یروشلم (بیت المقدس) کو برباد کیا تو اس وقت بھی اسرائیلی قبائل فلسطین میں سے بعض نے جزیرہ عرب ہی کا رخ کیا تھا۔علامہ طبری نے بھی قبائل بنی اسرائیل کی ارض حجاز میں ہجرت کا یہی سبب بیان کیا ہے۔اور کتاب وفاء الوفاء میں یہاں تک مذکور ہے کہ ان قبائل میں سے بنو قریظہ، بنو نضیر اور بنو ھدل وادی یثرب میں آباد ہوئے۔اور خط مقریزی میں ہے کہ سموئیل نبی کے عہد میں جن کا زمانہ ۱۰۵۷ قبل مسیح ہے، بنو اسرائیل ان علاقوں میں آباد ہوئے تھے۔علامہ ابن خلدون نے بھی سبط یہودا کی فلسطین سے حجرت اور خیبر و یثرب میں اس کی اقامت کا ذکر کیا ہے کے اور اس کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ اس قبیلے کے حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں فلسطین، شام، حجاز اور یمن وغیرہ کے تجارتی و با ہمی تعلقات آپس میں وسیع پیمانہ پر تھے ھے جس کی طرف آیت وَلِسُليمان الريح غُدُوهَا شَهْرٌو رَوَاحُهَا شَهْرُ (السباء : ١٣) اشارہ کرتی ہے کہ خلیج عقبہ میں ان کے بیڑے لنگر انداز ہوئے اور وہ نقل و حمل کے لئے دور دراز بحری سفر کرتے تھے۔ملکہ سباء کا حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعوت قبول کرنا ایک مشہور تاریخی واقعہ ہے جس کا ذکر سورۃ النمل (آیات ۳۹ تا ۴۵) میں وارد ہوا ہے اور اس سے فلسطین اور عربی قبائل کے قدیم تعلقات کا پتہ چلتا ہے۔۔(تاريخ الرسل والملوك للطبرى ذكر خبر لهراسب و ابنه بشتاسب و غزو بختنصر بنی اسرائیل و تخریبه و تخریبه بیت المقدس، جزء اول صفحه ۵۳۹) (وفاء الوفاء، الباب الثالث الفصل الأول سبب نزول اليهود المدينة، جزء اول صفحه (۱۲۹) المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار ، ذكر تحويل السنة الخراجية القبطية إلى السنة الهلالية العربية، جزء ۲ صفحه (۶) (أديان العرب في الجاهلية، اليهودية، صفحه ٢٠٠) تاریخ ابن خلدون الكتاب الثاني الطبقة الثالثة الخبر عن الأوس والخزرج، جزء ۲ صفحه ۳۴۲) (تاریخ ابن خلدون، الباب الثالث من الكتاب الأول فى الدول العامة، الفصل الثالث والثلاثون في شرح اسم البابا والبطرك، جزء اول صفحه (۲۸۸ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "اور (ہم نے) سلیمان کے لیے ہوا ( کو مسخر کر دیا)۔اُس کا صبح کا سفر بھی مہینے کی مسافت) کے برابر تھا اور شام کا سفر بھی مہینے کی مسافت) کے برابر تھا۔“