صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 36 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 36

صحیح البخاری جلد ۹ ۳۶ ۶۴ - کتاب المغازی ނ ، سلالم، وطبیح، ناعم ، قموص، نطاق، کتیبہ اور شق کے نام تاریخ میں محفوظ ہیں۔سموئل بن عادیاء کا قلعہ اہلق بھی مشہور ہے جو ارض تیماء کی ایک پہاڑی پر واقع تھا۔۔۔مذکورہ بالا قلعوں میں سے قلعہ ناعم اور قلعہ قموص نہایت ہی مضبوط تھے۔قلعہ ناعم مرحب نامی قہرمان (کارآزمودہ جنگی سردار) کا تھا۔تے خیبر میں ابن ابی الحقیق سردار بنی نضیر کا بھی ایک قلعہ تھا جس کا نام قموص بتایا جاتا ہے۔بنو نضیر کا خاندان مدینہ سے جلا وطنی کے بعد یہیں پناہ گزیں ہوا تھا۔ابو رافع کے مارے جانے پر اس کے بھتیجے کنانہ بن ربیع ( ابن ابی الحقیق) کو بنو نفسیر کی ریاست سپر دہوئی۔خیبر عبرانی نام ہے اور اس کے معنی قلعہ کے ہیں۔قلعوں کی کثرت کی وجہ سے بھی اس علاقہ کا نام خیبر مشہور ہوا۔یہاں کی زمین بھی ویسی ہے جیسی یثرب کی اور اس وجہ سے یہ علاقہ حیہ خیبر کہلاتا ہے۔آطام مدینہ (قلعہ نما مکانات) کی طرح یہاں بھی آطام اور قلعے بکثرت تھے۔خیبر ، وادی قری، وادی تیاء، فدک، اذرعات اور میٹرب وغیرہ میں یہود کی بہت سی آبادیاں تھیں۔شمالی حجاز کے یہ علاقے قدیم سے اسرائیلی قبائل کے زیر قبضہ رہے۔جب سیل عرم کی وجہ سے سد مارب ٹوٹا اور یمن سے قبائل نے ہجرت کی اور ان میں سے اوس و خزرج کے قبیلوں نے یثرب کے مضافات میں ڈیرے ڈالے تو اس وقت وہاں یہو دہی آباد تھے اور وہ ان سے اپنے نخلستانوں واراضی میں بطور مزارع کام لینے لگے۔مصری علماء میں سے بعض نے میٹر ب و خیبر سے یہودیوں کی جلا وطنی کے تعلق میں اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ وہ وہاں کے اصل باشندے نہ تھے بلکہ اجنبی تھے اور عرب کے علاقوں پر قبضہ مخالفانہ رکھتے تھے۔اس لئے وہاں سے نکالے گئے یہ خیال جو جلا وطنی کے جواز میں پیش کیا گیا ہے، واقعات کے لحاظ سے درست نہیں بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت خواہ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل سے تھی یا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی، وعدہ کے مطابق بہت بڑھی اور ارض کنعان اور حجاز وغیرہ میں پھیلی، پھولی اور پھلی۔دونوں قومیں ایک دوسرے کے ساتھ عربی ممالک میں بھائیوں کی طرح رہیں اور حالات صلح و جنگ میں ان کے آپس میں تعلقات استوار بھی رہے اور بگڑے بھی۔جس طرح بنی اسرائیل کی ہجرت و نقل مکانی کے متعلق تاریخ شہادت دیتی ہے، اسی طرح بنی اسماعیل سے متعلق بھی۔قوموں کی نقل مکانی کے اسباب عام طور پر کثرت آبادی، قلت اراضی، خطرہ، قلت خوراک، وبائیں اور سیلاب، ظلم و ستم ، مذہبی اور سیاسی جنگیں ہیں جو بطور تازیانہ کام کرتی اور ایک قوم یا قبیلے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جہاں سامان زیست اور امن میسر ہو ، ہجرت کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔انہی اسباب میں سے کسی نہ کسی سبب کی وجہ سے جب قبائل بنی اسرائیل کو ارض کنعان و مصر سے نکلنا پڑا تو۔ا۔(معجم البلدان، خيبر وتيماء) (اٹلس سیرۃ النبی صلی ، غزوہ خیبر ، فدرک اور وادی القری، ۳۲۹ تا ۳۳۲) (تاريخ الخميس الموطن السابع فى وقائع السنة السابعة من الهجرة، غزوة خيبر، جزء ۲ صفحه ۴۵) (إمتاع الأسماع، وأما ما صنعه الله سبحانه وتعالى لرسوله حتى فرت غطفان و ترکت یهود خیبر ، جزء ۱۳ صفحه ۳۳۳، ۳۳۴) (الرحيق المختوم ، غزوة خيبر ، فتح حصن ناعم ، جزء ۲ صفحه ۵۸)