صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 33 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 33

صحیح البخاری جلد ۹ ۳۳ ۶۴ - کتاب المغازی سنبھال لیا ہے حالانکہ ہم اپنی قرابت کا بھی حصہ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ فَقَالَ یقینا آپ کی فضیلت کو سمجھتے ہیں اور جو خوبی اللہ تعالیٰ إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا فَضْلَكَ وَمَا أَعْطَاكَ الله نے آپ کو عطا کی ہے اور ہم آپ سے کسی بھلائی وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللهُ مِیں بھی حسد نہیں کرتے جو اللہ نے آپ کو دی ہے مگر ہمیں چھوڑ کر آپ نے اکیلے ہی اس خلافت کو إِلَيْكَ وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالْأَمْرِ وَكُنَّا نَرَى لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَّسُوْلِ اللهِ سمجھا کرتے تھے جو ہمیں رسول اللہ صلی علیم سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصِيبًا حَتَّى حاصل تھی۔حضرت علی یہ باتیں کر رہے تھے کہ فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ فَلَمَّا تَكَلَّمَ حضرت ابوبکر کی آنکھیں بھر آئیں۔پھر حضرت ابوبکر نے بات شروع کی اور کہا: اس ذات کی قسم أَبُو بَكْرٍ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے رسول اللہ لَقَرَابَةُ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ل ل نام کی قرابت مجھے زیادہ پیاری ہے اس سے کہ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي وَأَمَّا میں اپنی قرابت سے صلہ رحمی کروں اور وہ جو الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ میرے اور آپ کے درمیان ان مالوں کے بارے الْأَمْوَالِ فَلَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ میں اختلاف ہو گیا ہے تو میں نے مالوں میں سے کسی وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ بھلی بات سے کوتاہی نہیں کی اور نہ میں نے کوئی ایسی بات چھوڑی ہے جو رسول اللہ صل ال نیم کو ان صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا کے متعلق کرتے دیکھا۔میں نے وہی کیا ہے۔إِلَّا صَنَعْتُهُ فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَبِي بَكْرٍ حضرت علی نے حضرت ابو بکر سے یہ سن کر کہا: آج مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةَ لِلْبَيْعَةِ فَلَمَّا صَلَّى شام کو آپ سے بیعت کرنے کا وعدہ ہے۔جب أَبُو بَكْرِ الظُّهْرَ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ حضرت ابو بکر ظہر کی نماز پڑھ چکے تو وہ منبر پر فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِي وَتَخَلْفَهُ ڑھے اور کلمہ شہادت پڑھا اور حضرت علی کی شان عَنِ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ کا ذکر کیا اور ان کے بیعت کرنے سے پیچھے رہنے اور اس عذر کا بھی ذکر کیا جو انہوں نے ان کے ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ فَعَظَّمَ حَقَّ سامنے پیش کیا تھا۔پھر اس کے بعد حضرت ابو بکر أَبِي بَكْرٍ وَحَدَّثَ أَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى نے مغفرت کی دعا مانگی اور ان کے بعد حضرت علی الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَلَا نے کلمہ شہادت پڑھا اور حضرت ابو بکر کے حق کی