صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 32
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۲ ۶۴ - کتاب المغازی لَا أُغَيْرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللهِ مَیں کچھ بھی تبدیل نہیں کروں گا اور میں بدستور صا الترسل صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي ویسا ہی تصرف کروں گا جیسا رسول اللہ صلی علیم نے كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ اس میں کیا تھا۔ حضرت ابوبکر نے انکار کر دیا کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا حضرت فاطمہ کو اُس میں سے کچھ دیں۔ حضرت بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ فاطمہ اس وجہ سے حضرت ابوبکر پر ناراض رہیں اور انہیں ملنا چھوڑ دیا اور وفات پانے تک ان سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ بات نہیں کی اور وہ بی سی ای ایم کی وفات کے بعد چھ الله علی علیہ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا فَوَجَدَتْ مہینے زندہ رہیں۔ جب وہ فوت ہو گئیں تو ان کے فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ شوہر حضرت علی نے ان کو رات ہی کو دفن کر دیا۔ فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ حضرت ابوبکر کو اس کی اطلاع نہ دی اور (خود) وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ جب تک حضرت فاطمہ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ زندہ رہیں، حضرت علی کو لوگوں میں بڑی وجاہت دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا وَلَمْ يُؤْذِنْ رہی۔ جب وہ فوت ہوگئیں تو حضرت علیؓ نے لوگوں کے چہروں کو کچھ اوپر ا سا پایا۔ اس لئے انہوں نے بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَانَ چاہا کہ حضرت ابو بکر سے صلح کر لیں اور ان کی بیعت لِعَلِي مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ کرلیں۔ اس سے پہلے انہوں نے مہینوں بیعت فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ نہیں کی تھی۔ انہوں نے حضرت ابو بکر کو پیغام بھیجا النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ کہ آپ ہمارے پاس آئیں اور آپ کے ساتھ اور وَمُبَايَعَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الْأَشْهُرِ کوئی ہمارے ہاں نہ آئے کیونکہ وہ حضرت عمرؓ کا آنا ناپسند کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ کہنے لگے: ہرگز فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا وَلَا نہیں۔ اللہ کی قسم ! آپ ان کے پاس اکیلے مت يَأْتِنَا أَحَدٌ مَّعَكَ كَرَاهَةً لِمَحْضَرٍ عُمَرَ جائیں ۔ حضرت ابو بکر نے کہا: بھلا وہ میرے ساتھ فَقَالَ عُمَرُ لَا وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ کیا کریں گے ؟ اللہ کی قسم! میں تو ان کے پاس ضرور وَحْدَكَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَمَا عَسَيْتَهُمْ جاؤں گا۔ چنانچہ حضرت ابو بکر ان کے پاس گئے۔ أَنْ يَفْعَلُوْا بِي وَاللهِ لَآتِيَنَّهُمْ فَدَخَلَ حضرت علیؓ نے کلمہ شہادت پڑھا اور کہنے لگے : ہم