صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 31
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۱ ۶۴ - کتاب المغازی أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہ حضرت ابان بن سعید نبی صلی اللہ نیم کے پاس وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ( سید ھے) چلے آئے اور آپ کو السلام علیکم کہا۔يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا قَاتِلُ ابْن قَوْقَل حضرت ابوہریرہ نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ (نعمان) وَقَالَ أَبَانُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ وَاعَجَبًا لَكَ مِن قوقل کا قاتل ہے اور ایان نے ابوہریرہ وَبْرٌ تَدَأْدَاً مِنْ قَدُومِ ضَأْنِ يَنْعَى سے کہا: واہ رے بلونگڑے! تیرا کیا کہنا جو ابھی عَلَيَّ امْرَأَ أَكْرَمَهُ اللهُ بِيَدِي وَمَنَعَهُ أَنْ ضَاَن پہاڑ کے جنگل سے ڈھلکتا چلا آیا ہے مجھ پر ایسے شخص سے متعلق الزام لگاتا ہے جس کو اللہ نے يُهِينَنِي بِيَدِهِ۔أطرافه: ۲۸۲۷، ۴۲۳۷ ، ۴۲۳۸۔میرے ہاتھ سے عزت بخشی اور جس کے ہاتھ سے مجھے رسوا نہ ہونے دیا۔٤٢٤٠ - ٤٢٤١: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ ۴۲۴۰-۴۲۴۱: یحی بن بگیر نے ہم سے بیان کیا بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ کہ لیث بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ عروہ سے ، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللهُ عَنْهَا أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا روایت کی ہ نبی علی ایم کی بیٹی حضرت فاطمہ علیہا السلام السَّلَامُ بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت ابوبکر کو کہلا بھیجا کہ رسول اللہ صلی الیکم وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ سے جو اُن کے ورثہ کا حق ہے، اُن سے مانگتی ہیں یعنی ان مالوں میں سے جو اللہ نے ان کو مدینہ میں اور فدک میں عنایت کیا تھا نیز اُس مال سے جو خیبر مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ کے پانچویں حصے سے بچ رہا تھا تو حضرت ابو بکر نے وَفَدَكِ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ فَقَالَ یہ جواب دیا کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا ہے: أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑ جائیں وہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا سب صدقہ ہے۔البتہ محمد لی لی ایم کی اولاد اس مال میں سے اپنا نان و نفقہ لیا کریں گے اور اللہ کی قسم ! صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ رسول الله صلى ال علیم کے صدقہ کو اس کی اس حالت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَإِنِّي وَاللهِ سے کہ جس پر وہ رسول اللہ صلی علیہ ظلم کے زمانہ میں تھا،