صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 30 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 30

صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٢٣٨ : وَيُذْكَرُ عَنِ الزُّبَيْدِي عَنِ ۴۲۳۸ اور (محمد بن ولید) زبیدی سے مروی الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ ہے۔انہوں نے زہری سے روایت کی کہ انہوں سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُ سَعِيدَ نے کہا: عنبہ بن سعید نے مجھے بتایا۔انہوں نے بْنَ الْعَاصِ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ حضرت ابوہریرہ سے سنا، وہ حضرت سعید بن العاص صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ کو بتا رہے تھے۔کہتے تھے: رسول اللہ صلی ا ہم نے مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ابان بن سعید) کو ایک دستہ فوج کا سردار مقرر کر کے مدینہ سے نجد کی طرف بھیجاہ حضرت ابوہریرہ الله سر فَقَدِمَ أَبَانُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى النَّبِي کہتے تھے: پھر ابان اور ان کے ساتھی نبی صلی علیکم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ مَا کے پاس خیبر میں آئے جبکہ آپ نے اس کو فتح افْتَتَحَهَا وَإِنَّ حُزْمَ خَيْلِهِمْ لَلِيْفٌ قَالَ کر لیا تھا اور ان کے گھوڑے کے تنگ کھجور کی أَبُو هُرَيْرَةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ لَا تُقْسِمُ چھال کے تھے۔حضرت ابوہریرہ کہتے تھے: میں لَهُمْ قَالَ أَبَانُ وَأَنْتَ بِهَذَا يَا وَبْرُ نے کہا: یا رسول اللہ! انہیں (یعنی ابان اور ان کے تَحَدَّرَ مِنْ رَأْسِ ضَأْنٍ فَقَالَ النَّبِيُّ ساتھیوں کو) حصہ نہ دیجئے۔ابان نے کہا: ارے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَانُ اجْلِسْ بلونگڑے! تم یہ بات کہتے ہو، جو ابھی ضان پہاڑ فَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ۔سے نیچے اتر کر آئے ہو۔(ہم پر اکڑتے ہو!) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ابان بیٹھ جاؤ اور آپ نے ان کو خیبر کی غنیمت سے حصہ نہ دیا۔{قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّالُ السَّدْرُ } ابو عبد الله (امام بخاریؒ) نے کہا: خالی بیری کو أطرافه: ۲۸۲۷، ۴۲۳۷، ۴۲۳۹ کہتے ہیں۔٤٢٣٩ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۴۲۳۹ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ) کہا :) عمرو بن یحی بن سعید نے ہمیں بتایا۔انہوں قَالَ أَخْبَرَنِي جَدِي أَنَّ أَبَانَ بْنَ سَعِيدٍ نے کہا: میرے دادا (سعید بن عمرو) نے مجھے خبر دی ا عمدۃ القاری میں اس جگہ مِنْ رَأْس ضَال ہیں۔(عمدۃ القاری جزء۷ اصفحہ ۲۵۶) یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ بولاق کی ہے۔(فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۶۱۴)