صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 361
صحیح البخاری جلد ۹ ٣٦١ ۶۴ - کتاب المغازی يح: كَمْ غَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : معنونہ سوال کا جواب تین روایتوں سے دیا گیا ہے۔دو روایتیں ابو اسحاق کی ہیں جنہوں نے دو مختلف صحابیوں حضرت زید بن ارقم اور حضرت براء بن عازب سے دریافت کیا کیونکہ انہیں غزوات سے متعلق تحقیق کا شوق تھا۔امام بخاری نے حضرت زید بن ارقم کی روایت ( نمبر ۳۹۴۹) سے غزوات کے ابواب شروع کئے اور خاتمہ میں بھی انہی کی روایت (نمبر ۴۴۷۱) کا ذکر ہے۔جس سے پایا جاتا ہے کہ کل غزوات انہیں ہوئے۔بعض صحابہ پندرہ جنگوں میں شریک ہوئے اور بعض سولہ میں۔اس تعلق میں ایک روایت حفصہ بن سیرین کی کتاب الحیض روایت نمبر ۳۲۴ میں گزر چکی ہے، جس میں ایک خاتون کا بیان نقل کیا گیا ہے کہ وہ بنی خلف میں آئی اور اس نے بتایا کہ ان کے بہنوئی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بارہ غزوات کئے اور اس کی بہن چھ غزوات میں شریک ہوئی۔عورتیں بیماروں کی تیمار داری اور زخمیوں کا علاج معالجہ کرتی تھیں۔غرض روایتوں میں تعداد کا ذکر حسب مشاہدہ کم و بیش ہے۔امام بخاری نے اپنے اصول صحت کے مطابق جو مستند روایتیں قبول کی ہیں ان کی رو سے زیادہ سے زیادہ غزوات کی تعداد انیس ہے۔(روایت نمبر ۳۹۴۹) غزوه ابواء، غزوہ بواط، غزوہ طلب کر زبن جابر الفہری، غزوہ بدر اولی، غزوہ عشیره، غزوہ بدر، غزوہ بنی قینقاع، غزوه سویق، غزوه قرقرة الكدر، غزوہ غطفان، غزوہ بنی سلیم، غزوہ احد، غزوہ حمراء الاسد ، غزوہ بنی نضیر ، غزوہ بدر الموعد، غزوہ ذات الرقاع، غزوہ دومۃ الجندل، غزوہ مریسیع، غزوہ خندق، غزوہ بنی قریظہ غزوہ بنی لحیان، غزوہ قرطاء ، غزوه الغابه ، غزوہ حدیبیه ، غزوہ خیبر، غزوہ فتح مکه، غزوہ حنین، غزوہ طائف، غزوہ موتہ، غزوہ تبوک۔ان میں سے غزوہ ابواء، بواط، عشیرہ، کرز، سویق اور بدر الموعد میں کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔حضرت زید بن ارقم کی مراد اُنہیں وہ غزوات ہیں جن میں جنگیں یا جھڑپیں ہوئیں۔طبقات ابن سعد میں غزوات و سرایا کا ذکر تفصیل سے ہے۔ان میں مذکورہ بالا غزوات کی تعداد ستائیس ہے اور سر ایا تقریباً سنتالیس ہیں۔کے امام ابن حجر نے مغلطائی کا حوالہ دیا ہے کہ انہوں نے غزوات و سرایا کی تعد اد یکصد بتائی ہے اور یہی درست ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۱۹۲) لیکن جیسا کہ ذکر کیا جاچکا ہے کہ ہر غزوہ یا سر یہ میں لڑائی نہیں ہوئی اور نہ تمام لڑائی کی غرض سے تھے جس کی وجہ سے تعداد میں اختلاف ہے۔سیرت ابن ہشام میں کل ستائیس غزوات کا ذکر ہے۔ان میں سے نو غزوات میں مڈ بھیڑ ہوئی۔بدر، احد، خندق، قریطه، مصطلق، خیبر ، فتح (مکہ)، حنین اور طائف اور اڑتیس مہمات بھیجی گئیں۔کے غزوہ بنی قریظہ غزوہ احزاب ہی کا حصہ ہے۔اس لئے آٹھ ہی ایسے غزوات ہیں جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن سے سامنا ہوا۔حضرت براء بن عازب کی روایت (نمبر ۴۴۷۲) کہ میں آپ کے ساتھ پندرہ غزوات میں شریک تھا اس میں وہ مہمیں بھی شامل ہیں جو جنگی نوعیت کی نہ تھیں بلکہ اور اغراض کے لئے تھیں۔الطبقات الكبرى لابن سعد، ذكر عدد مغازى الرسول ﷺ جزء ۲ صفحه ۳) (السيرة النبوية لابن هشام ، ذكر جملة الغزوات وذكر جملة السرايا والبعوث، جزء ۲ صفحه ۶۰۹،۶۰۸)