صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 362
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۶۲ ۶۴ - کتاب المغازی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کثرت اشغال و شدت مصروفیت کا اندازہ مذکورہ بالا جنگوں اور مہموں سے کیا جا سکتا ہے جن سے آپ کو اپنے آخری حصہ عمر کے عرصہ پانچ چھ سال میں گزرنا پڑا ہے اور فتح مکہ کے بعد جو وفور قبائل عرب کی طرف سے اسلام قبول کرنے یا معاہدات صلح و امن طے کرنے کی غرض سے مدینہ آئے اور اس اثناء میں جو خطوط آپ نے بادشاہوں اور سرداران عرب و عجم کی طرف بھیجے اور اسی طرح جو عمال مفتوحہ علاقہ جات میں انتظام و استحکام کی غرض سے روانہ فرمائے ، اگر ان سارے کاموں پر نظر ڈالی جائے اور اس پر مستزاد یہ کہ ایک بہت بڑی عیال داری اور اس کی جو ذمہ داری آپ پر تھی وہ ملحوظ رکھی جائے اور اس کے ساتھ آپ کی عبادت گزاری کی کیفیت دیکھی جائے اور جاہلیت سے نکلی ہوئی نئی قوم کی تربیت و تزکیہ کا عظیم الشان کام جو آپ کے مبارک ہاتھوں سے انجام پایا وہ مد نظر رکھا جائے تو آپ کے اس قول کا مفہوم اچھی طرح سمجھ میں آجائے گا۔اُعْطِيتُ قُوَّةً أَرْبَعِيْنَ فِي الْبَطْشِ وَالنِّكَاحِ ' کہ مجھے چالیس مردوں کی طاقت دی گئی۔یہ بار گراں کسی ایک مرد کے اُٹھانے والا نہ تھا۔نہ چالیس مردوں کا جو اس اکیلے مرد قوام نے اُٹھایا جو خارق عادت اور محیر العقول ہے۔ہر کام میں کامیابی نے آپ کے قدم چومے۔آپ کی یہی شان نرالی دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: إنِّي أَرَى فِي وَجُهِكَ الْمُتَهَدِّلِ شَأْنَّا تَفُوقُ شِمَائِلَ الْإِنْسَانِ میں تیرے رخ انور میں ایسی شان دیکھتا ہوں جو انسانی شمائل سے بالا تر ہے۔عَلَيْهِ صَلَوَاتُ اللهِ كَمَا يُحِبُّ وَيَرْضَى (المعجم الأوسط للطبرانى، من اسمه أحمد، جزء اول صفحه (۱۷۸)