صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 359
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۵۹ باب ۸۸ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٤٧٠: حَدَّثَنَا أَصْبَعُ قَالَ أَخْبَرَنِي ۴۴۷۰ اصبغ (بن الفرج) نے ہم سے بیان ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو عَن کیا، کہا: ( عبد اللہ ) بن وہب نے مجھے خبر دی۔ابْنِ أَبِي حَبِيْبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَن انہوں نے کہا: عمرو بن حارث) نے مجھے بتایا۔الصُّنَابِحِي أَنَّهُ قَالَ لَهُ مَتَى هَاجَرْتَ انہوں نے (یزید) بن ابی حبیب سے، انہوں نے قَالَ خَرَجْنَا مِنَ الْيَمَنِ مُهَاجِرِيْنَ ابوالخیر (مرثد) سے، ابوالخیر نے (عبد الرحمن بن فَقَدِمْنَا الْجُحْفَةَ فَأَقْبَلَ رَاكِبٌ فَقُلْتُ لَهُ الْخَبَرَ فَقَالَ دَفَنَّا النَّبِيَّ سیلہ) صنابحی سے روایت کی کہ انہوں نے ان سے پوچھا: تم نے کب ہجرت کی ؟ صنا بھی نے جواب دیا کہ ہم یمن سے ہجرت کرتے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ خَمْسٍ ہوئے نکلے اور جحفہ میں پہنچے۔ایک سوار سامنے قُلْتُ هَلْ سَمِعْتَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ سے آنکلا۔میں نے اس سے حال دریافت کیا۔شَيْئًا قَالَ نَعَمْ أَخْبَرَنِي بِلَالٌ مُؤَذِّنُ اس نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ دن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فِي سے دفنا چکے ہیں۔میں نے صنابھی سے پوچھا: کیا السَّبْعِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ۔تم نے لیلۃ القدر سے متعلق کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن حضرت بلال نے مجھے بتایا کہ وہ آخری دہا کے کی ساتویں رات ہے۔مریخ : یہ باب بلا عنوان ہے۔لیلۃ القدر کے مضمون کے تعلق میں تفصیل کے لیے دیکھئے کتاب فضل لیلتہ القدر شرح باب ۲، ۳۔اس خاتمہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے حوالہ سے خیر و برکت والی گھڑی کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لئے دعائیں فرمائیں اور ساری امت کو اُن دعاؤں کے التزام کے متعلق تاکید فرمائی۔اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَمُحِيَّهِ