صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 358
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۵۸ ۶۴ - کتاب المغازی ہزاروں ہزار رحمتیں) آپ کی رحلت کا من کر صحابہ کرام بھی جو جرف میں خیمہ زن تھے مدینہ آگئے اور حضرت بریدہ بن حصیب علم بردار لشکر نے آکر حضرت اسامہ کا علم اسی طرح بندھا بندھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر گاڑ دیا۔جب حضرت ابو بکر کی بیعت ہوئی تو انہوں نے حضرت بریدہ سے فرمایا کہ یہ علم اُسامہ کے پاس لے جاؤ۔وہ اپنی مہم پر روانہ ہو جائیں۔انہی دنوں بعض عرب قبائل کے ارتداد کی بھی خبریں پہنچی تھیں تو حضرت ابو بکر سے کہا گیا کہ اُسامہ کو روک لیا جائے۔انہوں نے نہ مانا اور حضرت اُسامہ سے کہا کہ اگر وہ عمر کو مدینہ میں ٹھہرنے کی اجازت دے دیں تو مناسب ہو گا۔بوقت ضرورت ان سے مشورہ کرنے میں مدد ملے گی۔چنانچہ حضرت عمر سے کہا گیا اور وہ مدینہ میں ٹھہر گئے اور حضرت اسامہ نے یکم ربیع الثانی کو علاقہ اپنی کی طرف کوچ کیا اور ہیں روز کا سفر کر کے اُن پر دھاوا بولا۔اسلامی لشکر کا شعار (علامت شناخت ) ” يَا مَنصُورُ أَمِت“ تھا۔یہ حملہ شدید تھا۔جو سامنے آیا، اسے قتل یا قید کیا گیا۔حضرت اسامہ اپنے باپ حضرت زید بن حارثہؓ کے گھوڑے سبحہ پر سوار تھے۔میدانِ جنگ میں چکر کاٹے اور اپنے باپ کے قاتل کو ٹھکانے لگایا جس نے جنگ موتہ میں انہیں شہید کیا تھا اور اسی طرح نہ صرف اپنے باپ کا بلکہ شہداء موتہ کا پورا انتقام لیا۔وہاں سے فارغ ہو کر وادی القریٰ کا رُخ کیا۔وہاں پہنچے اور مدینہ اپنی فتح و ظفر کی خوش خبری بھیجی اور جب مدینہ پہنچے تو حضرت ابو بکر نے مع مہاجرین و انصار شہر سے باہر جاکر اُن کا خوشی خوشی استقبال کیا۔اس غزوہ میں مسلمانوں کا جانی نقصان نہیں ہوا۔حضرت اسامہ اپنے گھوڑے سبحہ پر سوار مدینہ میں داخل ہوئے اور مسجد نبوی میں جا کر شکرانے کے دو نفل پڑھے۔ہر قل خود جنگ کے دوران حمص میں تھا اور جب اسے معلوم ہو اتو بلقاء سرحد پر چو کی بٹھا دی اور اس کے بعد وہ سلسلہ غزوات شروع ہوا۔یہاں تک کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں شام فتح ہوا اور رومیوں کے زیر نگین علاقہ جات سے وفود عرب اپنی اطاعت کا اعلان کرنے کی غرض سے آنے لگے۔امام بخاری کی روایات مندرجہ بالا میں اختصار ہے۔دونوں روایتوں میں بعض لوگوں کے اعتراض اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب ہی کا ذکر ہے۔غالباً اس لئے کہ یہ مہم آپ کی زندگی میں بالفعل روانہ نہیں ہوئی۔گو آپ کے بعد جو وسیع سلسلہ غزوات و فتوحات چلا ہے وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دعاؤں کا نتیجہ تھا جو آپ نے اپنی امت کے لئے آخری لمحات میں کیں۔آپ قرآن مجید کی آخری تین سورتوں کا اعادہ کثرت سے فرماتے اور بیماری کے ایام میں بھی آپ کا یہی طریق تھا۔(روایت نمبر ۴۴۳۹) اور وہی دعائیں آپ کی امت کے لئے سلامتی و برکت کا موجب ہوئیں۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب فضائل القرآن باب ۱۴۔الطبقات الكبرى لابن سعد، سرية أسامة بن زيد بن حارثة ، جزء ۲ صفحه ۱۴۷،۱۴۶)