صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 357
۳۵۷ صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی میں شرحبیل عنسانی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ بر حضرت حارث بن عمیر از دی کو قتل کر دیا تھا اور اس کی سرکوبی کے لئے غزوہ موتہ ہوا۔(دیکھئے باب (۴۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری ایام میں رومیوں نے پھر ان علاقوں میں اپنا اقتدار بحال کرنا چاہا اور ان کی انگیخت سے اہل اپنی نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی جس کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مہم تیار کی۔ابن سعد کے بیان میں بھی ذکر ہے کہ حضرت اسامہ بن زید کی امارت پر اعتراض کیا گیا کہ جلیل القدر اور تجربہ کار صحابہ کو چھوڑ کر ان پر ایک ناتجربہ کار نوجوان امیر بنا دیا گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر بیماری کی حالت ہی میں سر باندھے مخملی چادر لپیٹے تشریف لائے اور صحابہ کو مخاطب فرمايا: أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسِ فَمَا مَقَالَةَ بَلَغَتْنِى عَنْ بَعْضِكُمْ فِي تَأْمِيرِى أَسَامَةَ وَلَئِنْ طَعَلْتُمْ فِي إمَارَتي أَسَامَةَ لَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَتِي أَبَاهُ مِنْ قَبْلِهِ وَاَيْمُ اللهِ إِن كَانَ لِلْإِمَارَةِ خَلِيَّقًا وَإِنَّ ابْنَهُ مِنْ بَعْدِهِ فَخَلِيقُ لِلْإِمَارَةِ وَإِن كَانَ لَمِنْ أَحَبٍ النَّاسِ إِلَى وَإِثْمَا لَسُخِيْلَاتٍ لِكُلِّ خَيْرٍ وَاسْتَوْصُوا بِهِ خَيْرًا فَإِنَّهُ مِنْ خِيَارِكُمْ۔یہ کہہ کر آپ منبر سے اترے اور گھر کو کوئے۔۔تقریبا یہی مضمون روایات باب ۸۷ کا ہے۔تاہم اس کے ان الفاظ میں لَمُخِیلَانِ لِكُلِّ خَيْر نہیں۔یعنی ان سے متعلق ہر بھلائی کا خیال ہے، اس لئے حضرت اسامہ کے بارے میں میری تمہیں بھلائی ہی کی وصیت ہے کیونکہ وہ اچھے لوگوں میں سے ہے۔محمد بن سعد کی روایت کے مطابق یہ واقعہ دس ربیع الاول ہفتہ کے روز کا ہے۔صحابہ کرام حضرت اسامہ کی مہم میں شریک ہونے کی غرض سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور آنے لگے اور آپ سے الوداع ہو کر اُن کے لشکر سے جو مقام جرف میں خیمہ زن تھا جاملے۔یہ مقام مدینہ سے دو تین میل کے فاصلہ پر تھا۔آپ کی بیماری بڑھتی گئی اور آپ اس دوران یہی تاکید فرماتے رہے کہ اسامہ کا لشکر روانہ ہو جانا چاہیے۔صحابہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا شدید فکر تھا۔ایسی حالت میں انہیں روانگی پسند نہیں تھی۔یک شنبہ کو جب بیماری نے شدت اختیار کی۔حضرت اسامہ آپ کے پاس اجازت حاصل کرنے کے لئے آئے۔سر جھکا یا، انہیں آپ نے بوسہ دیا۔بات نہیں کر سکتے تھے۔ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھائے اور نیچے کر لئے۔حضرت اسامہ سمجھے کہ ان کی کامرانی کے لئے دعا فرمائی ہے اور اپنے لشکر کی طرف کوئے اور یہ وہ دن تھا جب غشی کی حالت میں آپ کے منہ میں دوا ڈالی گئی۔اور اس سے دوسرے دن صبح آپ کو افاقہ ہوا تو حضرت اسامہ پھر حاضر ہوئے۔آپ نے فرمايا: أعْدُ عَلَى بَرَكَةِ الله اللہ کی برکت کے آسرے روانہ ہو جاؤ اور یہ کہہ کر انہیں الوداع فرمایا۔وہ اپنے لشکر گاہ کی طرف لوٹے اور لوگوں میں کوچ کا اعلان کیا۔روانگی کے لئے وہ سوار ہونا چاہتے تھے کہ ان کی والدہ حضرت ام ایمن کا پیغام آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت نزع میں ہیں۔وہ آئے اور ان کے ساتھ حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہ بھی آئے اور آپ اسی دن بارہ ربیع الاول دو شنبہ کے روز سورج ڈھلے اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے۔(آپ پر الطبقات الكبرى لابن سعد، سرية أسامة بن زيد بن حارثة ، جزء ۲ صفحه ۱۴۶)