صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 356 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 356

صحیح البخاری جلد ۹ ۳۵۶ ۶۴ - کتاب المغازی ظہور تھی اور آپ کی اسی شان کا مشاہدہ کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کو مخاطب کرتے اور فرماتے ہیں: إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِكَ الْمُتَهَدِّلِ شَأْنًا يَفُوقُ شَمَائِلَ الْإِنْسَانِ بے شک میں تیرے درخشاں چہرے میں دیکھ رہا ہوں ایک ایسی شان جو انسانی خصائل پر فوقیت رکھتی ہے۔آپ کا خاتمہ کس شان کا ہے کہ مفوضہ فرض بعثت کے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بعد فرمایا: دنیا میں ٹھہرنے کی مجھے رغبت نہیں بلکہ رفیق اعلی سے ملنے کا شوق ہے۔بالکل اسی جذبہ شوق سے جس طرح ایک سپہ سالار میدانِ جنگ فتح کرنے کے بعد بادشاہ سے ملنے کی خواہش رکھتا ہے۔امام بخاری نے کتاب المغازی کے خاتمہ ابواب کی جو ترتیب قائم کی ہے اس سے نبی اکرم رسول اللہ لی تیلی کیم کے کامیاب جہاد کی عظمت اور آپ کی شان علو مرتبت کا علم ہوتا ہے۔بعث اُسامہ بن زید کا سبب بھی وہی تھا جو غزوہ تبوک کا۔رومی پھر مدینہ منورہ پر دھاوا بولنے کی تیاری میں مصروف تھے۔یہ اطلاع ملتے ہی آپ نے حضرت اسامہ کی قیادت میں مہم فلسطین و بلقاء کی طرف روانہ کرنے کا فیصلہ فرمایا اور اس میں حضرت ابو بکر حضرت عمرؓ، حضرت ابو عبیدہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص وغیرہ جلیل القدر صحابہ پابہ رکاب تھے۔جس کی وجہ سے بعض کو اعتراض کا موقع مل گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دلیل سے ان کے اعتراض کا ازالہ فرمایا۔سیرت ابن ہشام میں اس غزوہ سے متعلق مختصر ذکر ہے۔' آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری سے متعلق متفکر صحابہ مقام جرف پر ٹھہر گئے کہ آپ کو صحت ہو اور وہ آگے بڑھیں۔طبقات ابن سعد میں اس سے متعلق مفصل ذکر ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے: ۱۱ ہجری ماہ صفر کے چار دن باقی تھے کہ دو شنبہ کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رومیوں سے جنگ کی تیاری کا حکم دیا اور دوسرے دن حضرت اسامہ کو بلایا۔یہ واقعہ سہ شنبہ کا ہے اور چہار شنبہ یعنی بدھ کے روز آپ کو سر درد کی شکایت ہوئی اور بخار سے بیمار ہوئے اور جمعرات کی صبح کو حضرت اسامہ کے لئے پرچم کو گرہ لگائی اور دعا کے ساتھ الوداع فرمایا کہ اس جگہ جاؤ جہاں تمہارے باپ شہید ہوئے تھے۔میں نے تمہیں فوج کا سپہ سالار مقرر کیا ہے۔اہل آبنی پر صبح کو حملہ کرنا اور حملہ سختی سے ہو اور تمہارے کوچ کی خبر پہنچنے سے پہلے وہاں پہنچ جاؤ۔اگر اللہ تمہیں کامیاب فرمائے تو وہاں زیادہ دیر ٹھہرنے کی ضرورت نہیں اور اپنے ساتھ راستے سے واقف لے جاؤ۔جاسوس اور دستہ ہر اول آگے بھیجو تا حملہ علی وجہ البصیرت ہو۔کے اس واضح ہدایت کے ساتھ حضرت اسامہ کو روانہ فرمایا۔اپنی کا علاقہ موتہ کے قریب اردن کے مشرق میں ہے۔یہ اس سلسلہ کوہ میں واقع ہے جو سراۃ کہلاتا ہے اور تہامہ اور مسجد کے درمیان حد فاصل ہے۔شمالاً جنو با یمن تک ممتد ہے۔علاقہ بلقاء بھی اس جہت میں ہے جو وادگی اردن کے مشرق میں واقع ہے۔یہاں کے عربی قبائل رومی سلطنت کے زیر حمایت تھے۔غزوۂ تبوک میں ان میں سے بعض قبائل کے سرداران نے جزیہ کی ادائیگی پر صلح کرلی تھی۔(دیکھیں شرح باب ۷۸) غزوہ موتہ کا تعلق بھی اسی علاقہ سے تھا یہ سلطنت روم کی جنوبی سرحد تھی۔اسی علاقہ (السيرة النبوية لابن هشام، امر الرسول ﷺ بانفاذ بعث أسامة، جزء ۲ صفحه ۶۵۰) الطبقات الكبرى لابن سعد، سرية أسامة بن زيد بن حارثة، جزء ۲ صفحه ۱۴۶،۱۴۵)