صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 355 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 355

صحیح البخاری جلد ۹ ۳۵۵ ۶۴ - کتاب المغازی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ تَطْعَنُوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر کھڑے ہو گئے فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُوْنَ فِي اور فرمایا: اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کرتے إِمَارَةِ أَبِيْهِ مِنْ قَبْلُ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ ہو تو تم اس سے پہلے اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کیا کرتے تھے۔اور اللہ کی قسم! وہ امارت کے لائق ہی تھا اور وہ اُن لوگوں میں سے تھا جو مجھے بہت پیارے ہیں اور یہ بھی اس کے بعد ان لوگوں میں سے ہے جو مجھے بہت پیارے ہیں۔لَخَلِيْقًا لِلْإِمَارَةِ وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَدٍ النَّاسِ إِلَيَّ وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبْ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ۔اطرافه ۳۷۳۰ ، ٤۲۵۰ ، ٤٤٦٨ ، ٦٦٢٧ ، ٧١٨٧- تشريح : بَعْثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بن زَيْدٍ: حضرت اسامہ بن زیڈ کی مہم آخری مہم ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اور دعا کے ساتھ ان کے لئے علم کی گرہ باندھی اور یہ پہلی مہم ہے جس سے خلافت نبویہ کا آغاز ہوا اور اس اعتبار سے تاریخ اسلام میں بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ وہ ما بعد فتوحات کا پیش خیمہ تھی اور ان فتوحات کا سلسلہ مشرق و مغرب میں ممتد ہوا۔یہاں تک کہ دوسری صدی میں تمام متمدن عالم پر اسلامی پھر یر الہرایا۔یہ وسعت فتوحات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تو جہات قدسیہ اور دعا ہی کا نتیجہ تھی اور زمانے کے ساتھ ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کا سلسلہ جاری ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورة النور آیت ۳۶ میں آنحضرت صلی اللہ عالم کو اپنے انوار کا مظہر قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے انوار صفات الہیہ ہیں۔اور صفات الہیہ میں سے ایک صفت الحی القیوم ہے۔زندہ اور دوسروں کا محافظ و نگران اور سہارا۔صفت القيوم قیام سے مشتق ہے اور اس کے معنی قائم بالذات اور دوسروں کو قائم رکھنے والا۔اس مصدر سے لفظ قوام ہے جو انسان کا وصف ہے۔فرماتا ہے: كُونُوا قَوْمِينَ بِالْقِسْطِ (النساء : ۱۳۶) انصاف کو صحیح طور پر قائم کرنے والے ہو جاؤ۔اور فرماتا ہے: كُونُوا قَوْمِينَ لِلهِ (المائدة: 9) اللہ کے لئے قوام بنو۔اپنے اور دوسروں کے اخلاق درست رکھو۔اور فرماتا ہے : الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (النساء : ۳۵) مرد عورتوں کے قوام ہیں یعنی ان کی خوراک وغیرہ کا خیال رکھنے والے اور انہیں حدود اللہ کے اندر رکھنے والے ہیں۔یہ وصف خاصہ صفت قیومیت ہے جو آنحضرت صلی اللہ کل میں بحیثیت مظہر صفات الہیہ بصورت اتم پایا جانا تھا اور یہ شان آپ کی زندگی کی جزئیات و تفصیلات میں نمایاں تھی۔غزوہ تبوک اور بحث اسامہ بن زید کے موقع پر آنحضرت صلی علی ایم کی بیداری اور اسلامی سلطنت کی حفاظت سے متعلق آپ کی مستعدی کا ثبوت ملتا ہے۔جو نہی آپ کو رومی سلطنت کے بد ارادوں کا علم ہوا، آپ نے دفاع اور خود حفاظتی کی فوراتدبیر فرمائی اور حجتہ الوداع میں فتنہ دجال سے اپنی امت کو خبر دار کیا اور اس کی نشاندہی کی اور بستر علالت پر یہود و نصاری کی روش اختیار کرنے سے تنبیہ فرمائی۔آپؐ کی یہ شانِ مطہر صفت قیومیت کا ہی