صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 354
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۵۴ ۶۴ - کتاب المغازی تشریح یہ باب بلا عنوان ہے اور امام ابن حجر کے نزدیک امام بخاری نے اشارہ کیا ہے کہ آپ تہی دست دنیا سے گئے۔اور یہ حضرت عمرو بن حارث کی روایت کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۹۰) جس کے یہ الفاظ ہیں: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيْنَارًا وَلَا دِرْهَمًا۔(روایت نمبر ۴۴۶۱) بَاب :۸۷: بَعْثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيْهِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنی اس بیماری میں جس میں کہ آپ فوت ہوئے ، روانہ کرنا : ٤٤٦٨: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِم :۴۴۶۸ ابو عاصم ضحاک بن مخلد نے ہمیں بتایا۔الصَّحَاكُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنِ الْفُضَيْلِ بْن انہوں نے فضیل بن سلیمان سے روایت کی کہ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ موسى بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سالم سَالِمٍ عَنْ أَبِيْهِ اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّی سے، سالم نے اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ فَقَالُوْا فِيْهِ صلى اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ بن زید) کو فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سپہ سالار مقرر کیا اور لوگ ان سے متعلق باتیں قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ قُلْتُمْ فِي أَسَامَةَ وَإِنَّهُ بنانے لگے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم نے اسامہ کی بابت اعتراض کیا أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ۔اطرافة: ۳۷۳۰، ٤۲۵۰ ٤٤٦٩ ٦٦٢٧، ہے بحالیکہ وہ مجھے لوگوں میں سے بہت پیارا ہے۔-۷۱۸۷ ٤٤٦٩ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ حَدَّثَنَا :۴۴۶۹ اسماعیل بن ابی اولیس) نے ہم سے مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عبد الله بن دینار سے، عبد اللہ بن دینار نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا بَعَثَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ اور آپ نے حضرت اسامہ بن زید کو اُن پر امیر فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمَارَتِهِ فَقَامَ رَسُوْلُ اللَّهِ مقرر کیا۔لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا۔