صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 29 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 29

صحیح البخاری جلد ۹ ۲۹ ۶۴ - کتاب المغازی عُمَرَ رَضِيَ ٤٢٣٦: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۴۲۳۶ محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِي عَنْ مَّالِكِ بْنِ (عبد الرحمن) بن مہدی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ امام مالک بن انس سے ، امام مالک نے زید بن اسلم اللهُ عَنْهُ قَالَ لَوْ لَا آخِرُ سے، انہوں نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے الْمُسْلِمِينَ مَا فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ قَرْيَةٌ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں إِلَّا قَسَمْتُهَا كَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ نے کہا: اگر پیچھے آنے والے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو جو بستی بھی ان کے ذریعہ سے فتح کی گئی ہے میں اس کو ضرور ہی اسی طرح بانٹ دیتا جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو بانٹ دیا تھا۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ۔أطرافه: ۲۳۳۴، ۳۱۲۵ ، ۳۲۳۵ ٤٢٣٧: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۴۲۳۷ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ سفيان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: وَسَأَلَهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ قَالَ أَخْبَرَنِي میں نے زہری سے سنا اور ان سے اسماعیل بن امیہ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ نے پوچھا تھا۔انہوں نے کہا: عنبہ بن سعید نے اللهُ عَنْهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مجھے بتایا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (خیبر میں ) آئے اور انہوں نے فَسَأَلَهُ قَالَ لَهُ بَعْضُ بَنِي سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ لَا تُعْطِهِ يَا رَسُوْلَ اللهِ ) آپ سے کچھ مانگا۔سعید بن عاص (اموی) کے بیٹوں میں سے کسی نے آپ سے کہا: یا رسول اللہ ! آپ ابو ہریرہ کو کچھ نہ دیں (ان کا کوئی حق نہیں۔) حضرت ابوہریر کا بولے: یہ ابن قوقل کا قاتل ہے اس نے ان کو جنگ اُحد میں قتل کیا تھا۔) یہ سن فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلِ فَقَالَ وَا عَجَبًا لِوَبْرِ تَدَلَّى مِنْ قَدُومِ الضأن۔أطرافه: ۲۸۲۷، ۴۲۳۸، ۴۲۳۹۔کر اُس نے کہا: واہ واہ ! کیا کہا اس بلونگڑے نے جو ضان پہاڑ کے جنگل سے اتر کر آیا ہے۔یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں ( فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۶۱۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔