صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 350
صحيح البخاری جلد ۹ ۳۵۰ ۶۴ - کتاب المغازی طرح آپ سے پہلے تمام رسول۔خَلَت کے معنی خالی گزرنا نہیں بلکہ موت کے ذریعہ سے گزرنا ہے جیسا کہ الفاظ أَفَانْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ میں تصریح ہے۔مات سے مراد طبعی موت اور قتل سے غیر طبعی موت مراد ہے۔دونوں طریق میں سے کسی ایک ذریعہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو سکتے ہیں۔یہ اچنبی بات نہیں۔تمام رسول اسی طرح آپ سے پہلے گزر گئے۔اگر کسی نبی کے دنیا سے موت کے بغیر چلے جانے کی صورت ہوتی اور وہ زندہ سمجھا جاتا تو حضرت ابو بکر کا اس آیت سے استدلال درست نہیں ٹھہرتا اور نہ صحابہ کرام کو ان کے استدلال سے تسلی ہو سکتی تھی۔وہ خاموش ہو گئے اور یہ خاموشی اُن کا اجماع ہے۔اس اعلان سے قبل حضرت عمرؓ کا خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے بلکہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام طور پر اپنے رب کے پاس گئے تھے اور واپس بھی آگئے تھے اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے رب کے پاس کچھ دیر کے لئے گئے ہیں واپس آجائیں گے۔اپنا یہ خیال بیان کیا اور کہا کہ جو یہ کہے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں، اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں گے۔جس پر حضرت ابو بکر نے انہیں خاموش کیا۔بعض روایات میں ذکر ہے کہ جب حضرت عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراجعت سے متعلق حلفاً بیان کر رہے تھے تو حضرت ابو بکر مسجد نبوی میں داخل ہوئے اور ان کے الفاظ سن کر فرمایا: آئیهَا المخالِفُ عَلَى رِسُلِكَ - (نمبر ۳۶۶۷) قسم کھانے والے ٹھہر و خاموشی سے سنو۔روایت نمبر ۴۴۵۸ سے پایا جاتا ہے کہ آپ کی مرضی کے خلاف بلکہ منع کرنے کے باوجود دوائی بیہوشی کی حالت میں آپ کے منہ میں ڈالی گئی جس کی سزا آپ نے دوائی ڈالنے والوں کو یہ دی کہ انہیں وہی دوائی پلائی گئی۔اپنے چا حضرت عباس کو ادبا مستقلی فرمایا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذات الجنب کا شبہ جس کی وہ دوائی تھی آپ کے نزدیک درست نہ تھا ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۸۵) اور آپ نے اشارہ فرمایا، یہ نہ دی جائے یا آپ کو اپنی آخری گھڑی کا علم ہو چکا تھا۔جس میں دوا دارو بے سود ہے۔روایت نمبر ۴۴۴۰، ۴۴۴۱ ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کا خندہ پیشانی و اطمینانِ قلب سے استقبال کیا کہ وہ اپنے معبود سے ملاقات کرنے والے ہیں۔آپ کو کرب واضطراب اپنی امت کے بارے میں اس فکر سے ہوا کہ کہیں وہ یہود و نصاری کی روش اختیار نہ کر لیں۔! (السيرة النبوية لابن هشام ، مقالة عمر بعد وفاة الرسول، جزء ۲ صفحه (۶۵۵)