صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 351 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 351

صحیح البخاری جلد ۹ ۳۵۱ ۶۴ - كتاب المغازی بَاب ٨٤: آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخری بات جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ٤٤٦٣ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۴۴۶۳ بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ يُونُسُ قَالَ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں بتایا کہ یونس الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ نے کہا: زہری کہتے تھے: سعید بن مسیب نے فِي رِجَالٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ عَائِشَةَ اہل علم میں سے کئی آدمیوں کے سامنے مجھے بتایا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ که حضرت عائشہ فرماتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ يَقُوْلُ وَهُوَ صَحِيحٌ إِنَّهُ لَمْ جب تندرست تھے، فرمایا کرتے تھے: کوئی نبی نہیں اُٹھایا گیا جب تک اس نے جنت میں اپنے يُقْبَضْ نَبِيَّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرَ فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ وَرَأْسُهُ ٹھکانے کو نہیں دیکھ لیا اور اس کو اختیار نہ دے دیا گیا ہو۔ جب بیماری نے آپ پر سخت حملہ کیا اور آپ کا سر میری ران پر تھا۔ آپؐ پر غشی طاری ہوئی۔ پھر آپ کو افاقہ ہوا اور گھر کی چھت کی عَلَى فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى فَقُلْتُ طرف آپ نے ٹکٹکی لگائی اور فرمایا: اے الہی إِذًا لَّا يَخْتَارُنَا وَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَدِيثُ رفیق اعلیٰ کے ساتھ۔ میں نے کہا: اب تو آپ ہم الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهُوَ صَحِيحٌ میں رہنا پسند نہیں کریں گے۔ اور میں سمجھ گئی کہ قَالَتْ فَكَانَتْ آخِرَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا یہ وہی بات ہے جو آپ ہمیں جبکہ آپ تندرست اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى۔ تھے، بتایا کرتے تھے۔ فرماتی تھیں: آخری بات جو آپ نے کی، یہ تھی: الہی رفیق اعلیٰ کے ساتھ۔ اطرافه ٤٤٣٥، ٤٤٣٦، ٤٤٣٧، ٤٥٨٦ ٦٣٤٨، ٦٥٠٩ - تشريح : آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اس باب سے ان کمزور روایتوں کا رڈ مقصود ہے جو را جو رافضیوں اور شیعوں نے حضرت علی کی وصیت کے بارے میں گھڑی ہیں۔ مثلاً روایت ! أروايت لِكُلِّ نَبِي وَصِيٌّ وَإِنَّ عَلِيًّا وَصِي وَوَارِثِي رینی اور روایت عقیلی و غیره نیز یہ روایت که حضرت ریه ا الموضوعات لابن الجوزى، کتاب الفضائل والمناقب، جزء اول صفحہ ۳۷۶)