صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 349
صحیح البخاری جلد ۹ ނ ۶۴ - کتاب المغازی ہے مرض و صحت یابی کی۔علم تابکاری نے اس دقیق امر کے سمجھنے میں اب اور آسانی پیدا کر دی ہے اور علم روحانیت متعلق مشاہدات و تجارب اس کثرت سے ہیں کہ ان کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔علاوہ ازیں یہ حقیقت مسلمہ ادیان عالم ہے کہ جتنا جتنا تعلق واتصال انسان کا ذاتِ باری تعالٰی سے ہوتا ہے اسی قدر زیادہ اس کی روحانی طاقتیں اس منبع فیوض سے فیضیات ہو کر اس کی قوت توجہ اپنے باطن اور ماحول میں اثر انداز ہوتی ہیں۔ادویہ جو بدن کے اندر جاتی ہیں وہ خود خلایا کے اندر نہیں جاتیں بلکہ اُن کا بڑا کام یہ ہوتا ہے کہ خلایا کے مراکز حیات کو جو حالت تعطل میں ہوں، حرکت میں لائیں۔یہی حرکت عمل توجہ سے بھی پیدا ہو سکتی ہے۔انبیاء اور اولیاء اللہ کی روح غایت درجہ مطہر اور مصفا ہوتی ہے اور ان کے تزکیہ نفس کی نسبت سے ان کی قوت ارادہ و توجہ اور ان کی دیگر طاقتیں غیر معمولی طور پر ترقی یافتہ ہوتی ہیں۔اس لئے ان کی نیک تاثیر میں ان وجودوں میں سرایت کرتی ہیں جو اُن سے پیوند پکڑتے ہیں اور ان مقدس ہستیوں کے ماسوا بعض لوگ ذہنی و بدنی ریاضت کی مشق کرتے اور مقناطیسی طاقت جذب حاصل کر لیتے ہیں اور یہ ایک قسم کا کسب و فن ہے اور اس کی غرض و غایت تزکیہ نفس اور وصالِ الہی نہیں بلکہ کسب معاش ہے۔روایت نمبر ۴۴۳۲ شیعه و اهل سنت کے درمیان مدت سے موضوع بحث و نزاع رہی ہے۔شیعہ کہتے ہیں کہ یہ وصیت حضرت علی کے حق خلافت سے متعلق مقصود بالذات تھی جو حضرت عمر نے یہ کہہ کر کہ کیا کتاب اللہ ہمارے لئے کافی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھنے نہیں دی۔یہ امر واقعہ ہے جو اسی روایت میں مذکور ہے کہ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی بات پر حاضرین میں جھگڑا تھا جس سے ایک شور اُٹھا۔کیا یہ احتمال نہیں کہ حضرت عمرؓ نے اپنے محبوب آقا کی تکلیف کا احساس کر کے ایسا کیا۔جب یہ بھی احتمال ہے جو اغلب ہے تو محض ایک فرضی خیال سے کسی مثبت بات کے بارے میں قیاس یقین کا درجہ نہیں رکھتا اور اس قیاس پر اصرار دوسری غلطی ہے۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمر واقعات کی بناء پر حضرت علی اور حضرت عباس کو ایک موقع پر ان کے بعض خدشات کا جواب دے چکے ہیں جو انہیں اپنے کسی موروثی حق کے بارے میں پید اہوئے تھے۔تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب فرض الخمس روایت نمبر ۳۰۹۴۔وصیت کے خیال کا رڈ روایت نمبر ۴۴۵۹، ۴۴۶۰ سے ہوتا ہے۔یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے سینہ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے کہ آخری سانس لیا۔یہ روایت خلاف ہے اُس روایت کے جو حاکم اور ابن سعد نے نقل کی ہے کہ آپ حضرت علی کی گود میں فوت ہوئے۔۔ابن حجر کی تحقیق میں وہ روایت مختلف سندوں سے نقل کی گئی ہے اور ہر سند میں کوئی نہ کوئی شیعہ راوی ہے اور قابل التفات نہیں۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۷۴، ۱۷۵) روایت نمبر ۴۴۵۴ سے ظاہر ہے کہ حضرت ابو بکر نے آیت وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (آل عمران: ۱۴۵) سے استدلال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح فوت ہو گئے جس (الطبقات الكبرى، ذكر من قال توفى رسول الله فى حجر على بن أبي طالب، جزء ۲ صفحه ۲۰۱، ۲۰۲)