صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 348
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۴۸ ۶۴ - كتاب المغازی چرخه جھاڑ پھونک، جادو منتر، تعویز ، ٹونے ٹوٹکے کا رواج ہے اور لوگوں کے مشاہدے میں ہے کہ ان طریقوں سے بعض وقت بیماری سے شفا ہو جاتی ہے۔ اس کا سبب دراصل عمل توجہ ہے جو نفس ناطقہ پر اثر انداز ہوتا اور اس کے اندر تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ آج کل عمل توجہ ایک باقاعدہ فن ہے اور علمی اصطلاح میں اس کے متعدد نام ہیں۔ مسمریزم، تنویم، ہیپیوٹزم اور مقناطیسی وغیرہ۔ میں نے ایک امریکن ماہر فن کو دیکھا جو اپنی توجہ کے ذریعہ سے ملا کر غیر طبعی حرکات کروانے میں مہارت رکھتا تھا۔ اور یہ بھی مشاہدہ میں آیا ہے کہ باری کا بخار دم کر دہ پانی سے یا دھاگا باندھنے سے ٹوٹ گیا ہے۔ بلکہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک ایسے بیمار کی دوائی بند کرنے اور اس کے سامنے دوسری چار پائی پر پر خہ رکھنے اور اس پر کپڑا ڈالنے اور اسے اسے یہ کہنے سے کہ بخار آب تجھے نہیں بلکہ اس چرخہ کو چڑھے گا، بخار ٹوٹ گیا۔ بلکہ یہ بھی مشاہدہ کی بات ہے کہ ایک بزرگ کی قبر سے مٹی لے کر کلائی پر باندھنے سے مز من بخار ٹوٹ گیا۔ ایسے سب واقعات میں توجہ کا توجہ کام کرتی ہے۔ ہمارے جسم کی ساخت ل ساخت نہایت لطیف ذرات سے ہے جو ، ذرات سے ہے جو صرف قومی خورد بینوں سے دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہ دقیق در دقیق جاندار خانے ہیں۔ جنہیں زبان عربی میں خلایا (جمع خلیہ ) اور انگریزی میں (Cells) کہتے ہیں۔ ہر خلیہ یا خانہ اپنے اندر زندگی کا مرکز رکھتا ہے۔ جس میں نقص پیدا ہو جانے سے زندگی کی رو عارضی طور پر مدھم یا معطل ہو جاتی ہے۔ ہر ذرہ حیات اپنی ذات میں مکمل مشین ہے۔ جس کی ریخت و مرمت کا ساز و سامان اس کے اندر ہی موجود ہے۔ اس ننھی سی مشین میں جو بھی خلل پیدا ہوتا ہے، کسی نہ کسی ظاہر علامت و صورت میں اس کا ظہور اور احساس ہوتا ہے۔ اس علامت و احساس کا نام بیماری ہے جو خارجی شے ہے اور انسان کی غفلت سے پیدا ہوتی ہے۔ اس خلل کے ازالہ اور خلیہ کی مشینری کے باطنی کل پرزے درست اور ٹھیک ٹھاک کرنے کا انتظام خالق فطرت نے خود اس کے اندر ہی رکھا ہے اور ان میں حرکت پیدا کرنے اور چلانے کے لئے کسی نہ کسی خارجی محرک کی ضرورت ہے۔ یہ حقیقت سورۃ الشعراء آیت ۸۱ میں بالفاظ حضرت ابراہیم علیہ السلام وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ میں بیان ہوئی ہے یعنی جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ مجھے شفا بخشتا ہے۔ مرض کو اپنی طرف اور شفا کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا قرار دیا ہے۔ جس کا انتظام خود ذرات بدن کی تھی مشینوں کے باطن میں موجود ہے اور انہی کو حرکت میں لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ خواہ دوا سے یا عمل توجہ سے یا دعا سے۔ یہ جو آپ نے سنا اور دیکھا ہو گا کہ بدن میں سوئیاں چھو کر مراق سے بیمار مرد یا عورت کا جن نکالا گیا ہے۔ یہ بھی دراصل علاج ہی کی قسم ہے جسے انگریزی میں آکو پنکچر (Acupuncture) یعنی سوئیاں چھونا کہتے ہیں۔ یہ طریق علاج چین میں پانچ ہزار سال سے رائج ہے اور یورپ میں بھی اس سے تپ کا بھی اور درد شقیقہ اور درد دل اور مراق کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس مخصوص طریق علاج سے اعصاب و خلا یا بدن میں تحریک ہی پیدا کی جاتی ہے جو عمل توجہ اور دعا سے بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ دعا کا تعلق مشیت الہی سے ہے جو اسباب شفا پیدا کرنے کی کامل قدرت رکھتا ہے اور عمل توجہ کا تعلق انسان کے اپنے ارادہ سے ہے جو عقیدہ ویقین اور عزم کی پختگی سے قوت پاتا اور اپنے باطن میں اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ حقیقت