صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 347 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 347

صحیح البخاری جلد ۹ نے مس ۶۴ - کتاب المغازی ٤٤٦٢: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۴۴۶۲ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ کیا کہ حماد بن زید) نے ہمیں بتایا۔انہوں قَالَ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے ثابت ( بنانی) سے، ثابت نے حضرت انس وَسَلَّمَ جَعَلَ يَتَغَشَّاهُ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ عَلَيْهَا السَّلَامُ وَا كَرْبَ أَبَاهُ فَقَالَ علیہ وسلم پر بیماری سخت ہوگئی تو آپ پر غشی طاری ہونے لگی۔یہ حالت دیکھ کر حضرت فاطمہ علیہا السلام لَهَا لَيْسَ عَلَى أَبِيْكِ كَرْبُ بَعْدَ نے کہا: ہائے میرے باپ کی گھبراہٹ۔یہ سن کر الْيَوْمِ فَلَمَّا مَاتَ قَالَتْ يَا أَبَتَاهُ آپ نے ان سے کہا: آج کے بعد تمہارے باپ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ يَا أَبَتَاهُ مَنْ جَنَّةُ پر کوئی گھبراہٹ نہ ہو گی۔جب آپ فوت ہو گئے الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ يَا أَبَتَاهُ إِلَى جِبْرِيلَ تو حضرت فاطمہ کہنے لگیں: اے میرے باپ، جو نَنْعَاهُ فَلَمَّا دُفِنَ قَالَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا اپنے رب کے بلانے پر چلے گئے۔اے میرے السَّلَامُ يَا أَنَسُ أَطَابَتْ نُفُوْسُكُمْ أَنْ ،باپ جن کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہوا۔اے تَحْفُوا عَلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ میرے باپ، جبرائیل کو آپ کی وفات کی خبر سناتی ہوں۔جب آپ دفن کئے گئے تو حضرت فاطمہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ۔علیہا السلام کہنے لگیں: انس تمہیں کیسے گوارا ہوا که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو۔تشریح:۔٤ مَرَضُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ وَفَاتُهُ : اس باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مرض الموت، وصیت، ہدایت اور روانگی مہم سے متعلق ذکر ہے۔کل پینتیس روایتیں ہیں، جن میں سے بعض پہلے گزر چکی ہیں۔عنوان باب میں بیماری کے سبب کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔سورۃ والْمُرْسَلتِ عُرُفًا آخری سورۃ ہے جو بمطابق روایت نمبر ۴۴۲۹ آپ نے آخری نماز باجماعت میں تلاوت فرمائی اور یہ وہ سورۃ ہے جس میں دانیال کی پیشگوئی نبیوں والی میعاد، باب ۱۱، ۱۲)، دجال اور آخری ہے۔حجتہ الوداع کے موقع پر جو نصیحتیں آپ نے فرما ئیں ان میں دجال سے متعلق اندار بھی ہے۔تباہی کا ذکر دیکھئے روایت نمبر ۴۴۰۲۔روایت نمبر ۴۴۳۹ میں ہے کہ آپ بیماری میں آخری تین سورتیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونکتے اور اپنے بدن پر اپنا ہاتھ پھیرتے تو بیماری کی تکلیف دور ہو جاتی تھی۔دم کرنے اور اس کے علاوہ اور بھی طریق از قسم