صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 345 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 345

صحیح البخاری جلد ۹ ۳۴۵ ۶۴ - کتاب المغازی فَجَعَلَ يُشِيْرُ إِلَيْنَا أَنْ لَا تَلُدُّونِي بتائی اور اتنا زیادہ کیا کہ حضرت عائشہ فرماتی فَقُلْنَا كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ فَلَمَّا تھیں: آپ کی بیماری میں ہم نے آپ کے منہ میں أَفَاقَ قَالَ أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِى دوا ڈالی۔آپ ہمیں اشارہ کرنے لگے کہ میرے قُلْنَا كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ فَقَالَ منہ میں دوا مت ڈالو۔ہم سمجھے آپ دوائی سے لَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي الْبَيْتِ إِلَّا لُدَّ وَأَنَا نفرت کرتے ہیں جیسے کہ بیمار دوائی سے نفرت کرتا أَنْظُرُ إِلَّا الْعَبَّاسَ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدُكُمْ ہے۔جب آپ کو افاقہ ہوا، آپ نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں روکا نہیں تھا کہ میرے منہ میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔رَوَاهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامٍ عَنْ دوائی نہ ڈالو ؟ ہم نے کہا: آپ کا روکنا اس نفرت أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ کی وجہ سے تھا جو ہر بیمار کو دوائی سے ہوا کرتی ہے۔آپ نے فرمایا: گھر میں کوئی بھی نہ رہے مگر اس کے منہ میں دوائی ڈالی جائے اور میں دیکھوں سوائے عباس کے کیونکہ وہ تم میں موجود نہ تھے۔یہ بات (عبد الرحمن ) ابن ابی زناد نے ہشام ( بن عروہ) سے روایت کی۔ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ سے، حضرت عائشہ نے نبی صل اللی کم سے روایت کی۔اطرافة ٥٧١٢، ٦٨٨٦ ، ٦٨٩٧- ٤٤٥٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۴۴۵۹ عبد الله بن محمد (مسندی) نے ہم أَخْبَرَنِي أَزْهَرُ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنِ عَنْ سے بیان کیا کہ از ہر (بن سعد سمان) نے مجھے إِبْرَاهِيْمَ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ خبر دی کہ (عبد اللہ ) بن عون نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم نے اسود عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ (بن یزید) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: وَسَلَّمَ أَوْصَى إِلَى عَلِيَّ فَقَالَتْ مَنْ حضرت عائشہ کے پاس ذکر کیا گیا کہ نبی صلی اللہ قَالَهُ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ علیہ وسلم نے حضرت علی کے لئے وصیت کی تھی۔وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَمُسْئِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي وہ کہنے لگیں: یہ کس نے کہا ہے ؟ میں نے نبی صلی الیکم