صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 343 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 343

صحیح البخاری جلد ۹ ۳۴۳ ۶۴ - کتاب المغازی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُغَشَّى بِثَوْبِ حِبَرَةٍ کے پاس چلے آئے اور رسول اللہ صل ال ایم کی فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ طرف گئے۔آپ ایک یمنی کپڑے سے ڈھانپے فَقَبَّلَهُ وَبَكَى ثُمَّ قَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ہوئے تھے۔انہوں نے آپ کے منہ سے وہ کپڑا وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَمَّا اُٹھایا۔پھر آپ پر جھکے اور آپ کو بوسہ دیا اور الْمَوْتَةُ الَّتِي كُتِبَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ روئے۔پھر کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان۔اللہ کی قسم! اللہ آپ پر دو موتیں اکٹھی نہیں کرے گا۔وہ موت جو آپ کے لئے مقدر تھی وہ مُنْهَا۔تو آپ پر وارد ہو چکی۔اطراف الحديث ٤٤٥٢: ١٢٤١، ٣٦٦٧ ٣٦٦٩ ٤٤٥٥، ٥٧١٠ اطراف الحديث ٤٤٥٣ ١٢٤٢ ، ٣٦٦٨، ٣٦٧٠، ٤٤٥٤، ٤٤٥، 0711 - عُمَرَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمَّا بَعْدُ مَنْ ٤٤٥٤: قَالَ الزُّهْرِيُّ وَحَدَّثَنِي :۴۴۵۴ زہری کہتے تھے: اور ابوسلمہ نے أَبُوْ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت کرتے أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ وَعُمَرُ يُكَلِّمُ النَّاسَ ہوئے مجھے یہ بھی بتایا کہ حضرت ابو بکر باہر آئے فَقَالَ اجْلِسْ يَا عُمَرُ فَأَبَى عُمَرُ أَنْ اور اس وقت حضرت عمر لوگوں سے باتیں يَجْلِسَ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ وَتَرَكُوْا کر رہے تھے۔آپ نے فرمایا: عمر بیٹھ جاؤ۔حضرت عمر نہ بیٹھے۔لوگ حضرت ابو بکر کی طرف متوجہ ہو گئے اور حضرت عمرؓ کو چھوڑ دیا۔حضرت ابو بکر نے کہا: تم میں سے جو محمد علی ایم کی پرستش کرتا تھا تو پھر محمد تو فوت ہو گئے ہیں اور يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ تم میں سے جو اللہ کی پرستش کرتا تھا تو اللہ زندہ قَالَ اللهُ: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولُ قَدْ ہے، کبھی نہیں مرے گا۔اللہ نے فرمایا ہے: محمد خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ إِلَى قَوْلِهِ ایک رسول ہی ہے۔اس سے پہلے بھی رسول گزر الشكرين (ال عمران : ١٤٥) وَقَالَ وَاللهِ چکے ہیں۔اور حضرت ابن عباس کہتے تھے : اللہ لَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوْا أَنَّ اللهَ أَنْزَلَ کی قسم ! ایسا معلوم ہوا کہ گویالوگ اس وقت تک كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا لا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ