صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 342
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۲ ۶۴ - کتاب المغازی أُعَوّذُهُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَ چنانچہ میں بھی آپ کے لئے پناہ مانگنے لگی۔آپ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى وَمَرَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ نے اپنا منہ آسمان کی طرف اُٹھایا اور فرمانے لگے: بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَفِي يَدِهِ جَرِيْدَةٌ رَطْبَةً اعلیٰ رفیق کے ساتھ۔اور عبد الرحمن بن ابی بکر ادھر آنکلے اور ان کے ہاتھ میں کھجور کی ایک سبز فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بنی تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ بِهَا حَاجَةً فَأَخَذْتُهَا دیکھا۔میں سمجھ گئی آپ کو اس کی ضرورت ہے۔فَمَضَعْتُ رَأْسَهَا وَنَفَضْتُهَا فَدَفَعْتُهَا میں نے وہ لی اور اس کا سرا چبایا اور اس کو پانی سے إِلَيْهِ فَاسْتَنَّ بِهَا كَأَحْسَنِ مَا كَانَ جھاڑ کر صاف ستھرا کر کے آپ کو وہ دے دی۔مُسْتَنَّا ثُمَّ نَاوَلَيْهَا فَسَقَطَتْ يَدُهُ أَوْ اور آپ نے اس سے مسواک ایسی اچھی طرح کی کہ جو آپ کیا کرتے تھے۔پھر آپ نے مجھے وہ سَقَطَتْ مِنْ يَدِهِ فَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيْقِهِ فِي آخِرِ يَوْمِ مِنَ الدُّنْيَا مسواک دینے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔آپ کا ہاتھ وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنَ الْآخِرَةِ۔رگیا، یا کہا: آپ کے ہاتھ سے وہ گر گئی۔اس طرح اللہ نے میرے اور آپ کے لعاب کو اُس وقت اکٹھا کر دیا کہ جو دنیا میں آخری دن اور آخرت میں پہلا دن تھا۔اطرافة ،۸۹۰، ۱۳۸۹، ۳۱۰۰، ٣٧٧٤، ٤٤٣٨ ٤٤٤٦، ٤٤٤٩، ٤٤٥٠، ٥٢١٧، 6510- ٤٤٥٢ - ٤٤٥٣ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بن ۴۴۵۲-۴۴۵۳: يحي بن بکیر نے ہم بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ابوسلمہ (بن أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ عبد الرحمن بن عوف) نے مجھے خبر دی کہ حضرت اللهُ عَنْهُ أَقْبَلَ عَلَى فَرَسٍ مِنْ مَسْكَنِهِ عائشہ نے اُن سے بیان کیا کہ حضرت ابو بکر سے بِالسُّنْحِ حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ اپنے اس گھر سے جو سخ میں تھا، گھوڑے پر سوار فَلَمْ يُكَلِّمِ النَّاسَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى ہو کر آئے اور اُتر کر مسجد میں داخل ہوئے۔عَائِشَةَ فَتَيَمَّمَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ لوگوں سے بات نہیں کی، سیدھے حضرت عائشہ