صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 342 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 342

صحیح البخاری جلد ۹ ۳۴۲ ۶۴ - کتاب المغازی أُعَوِّذُهُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَ چنانچہ میں بھی آپ کے لئے پناہ مانگنے لگی۔ آپؐ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى وَمَرَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ نے اپنا منہ آسمان کی طرف اُٹھایا اور فرمانے لگے : بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَفِي يَدِهِ جَرِيدَةٌ رَطْبَةً اعلی رفیق کے ساتھ۔ اور عبد الرحمن بن ابی بکر ادھر آنکلے اور ان کے ہاتھ میں کھجور کی ایک سبز فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ٹہنی تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ بِهَا حَاجَةً فَأَخَذْتُهَا دیکھا۔ میں سمجھ گئی آپ کو اس کی ضرورت ہے۔ فَمَضَغْتُ رَأْسَهَا وَنَفَضْتُهَا فَدَفَعْتُهَا میں نے وہ لی اور اس کا سرا چبایا اور اس کو پانی سے إِلَيْهِ فَاسْتَنَّ بِهَا كَأَحْسَنِ مَا كَانَ جھاڑ کر صاف ستھرا کر کے آپؐ کو وہ دے دی۔ مُسْتَنَّا ثُمَّ نَاوَلَئِيْهَا فَسَقَطَتْ يَدُهُ أَوْ اور آپ نے اس سے مسواک ایسی اچھی طرح کی سَقَطَتْ مِنْ يَدِهِ فَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَ کہ جو آپ کیا کرتے تھے۔ پھر آپ نے مجھے وہ مسواک دینے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ آپ کا ہاتھ رِيقِي وَرِيْقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِّنَ الدُّنْيَا گر گیا، یا کہا: آپ کے ہاتھ سے وہ گر گئی۔ اس وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنَ الْآخِرَةِ۔ طرح اللہ نے میرے اور آپ کے لعاب کو اُس وقت اکٹھا کر دیا کہ جو دنیا میں آخری دن اور آخرت میں پہلا دن تھا۔ اطرافه ۸۹۰، ۱۳۸۹، ۳۱۰۰ ، ٣٧٧٤ ، ٤٤٣٨ ، ٤٤٤٦ ، ٤٤٤٩ ، ٤٤٥٠ ، ٥٢١٧ ، ٦٥١٠۔ ٤٤٥٢ - ٤٤٥٣ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْن ۴۴۵۲ - ۴۴۵۳: يحي بن بکیر نے ہم سے بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ بیان کیا کہ لیث بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ابو سلمہ (بن أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ عبد الرحمن بن عوف نے مجھے خبر دی کہ حضرت الله رضي عنه اللَّهُ عَنْهُ أَقْبَلَ عَلَى فَرَسٍ مِنْ مَسْكَنِهِ عائشہ نے اُن سے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر را بالسُّنْحِ حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ اپنے اس گھر سے جو سخ میں تھا، گھوڑے پر سوار فَلَمْ يُكَلِّمِ النَّاسَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى ہو کر آئے اور اُتر کر مسجد میں داخل ہوئے۔ عَائِشَةَ فَتَيَمَّمَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله لوگوں سے بات نہیں کی، سیدھے حضرت عائشہ